کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 279

کرامات الصادقین — Page 112

كرامات الصادقين ۱۱۲ اُردو ترجمہ وَ وَاللَّهِ إِنِّي جِئْتُ حِيْنَ مَجِيْنِهِ وَهُوَ فَارِسٌ حَقًّا وَّ إِنِّي مُحْقِبُ اور خدا کی قسم ! میں آیا ہوں اس کی آمد کے وقت پر سوار تو وہ یقینا ہے لیکن میں اسے اپنے پیچھے سوار کر کے لایا ہوں۔وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ ذِكْرُ وَفَاتِهِ وَمَا جَاءَ فِيهِ هُوَ الَّذِي هُوَ أَصْوَبُ اور قرآن میں اس کی وفات کا ذکر آ چکا ہے اور جو کچھ اس میں آیا ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔وَلَوْ كَانَ فِي الْقُرْآن اَمْرٌ خِلَافَهُ لَآثَرْتُهُ دِينَا وَلَا أَتَجَنَّبُ اور اگر قرآن میں اس کے برخلاف کوئی امر ہوتا تو میں دین کے طور پر ا سے ہی اختیار کرتا اور اجتناب نہ کرتا۔وَلكِنْ كِتَابُ اللهِ يَشْهَدُ أَنَّهُ تَنَاوَلَ مِنْ كَأْسِ الْمَنَايَا فَتَعْجَبُ لیکن اللہ کی کتاب یہ گواہی دیتی ہے کہ یقیناً وہ موتوں کا پیالہ پی چکا ہے۔پھر بھی تو حیران ہو رہا ہے۔اَ مِنْ غَيْرِ مَنْبَعِ هَدْيِهِ نَطْلُبُ الْهُدَى وَكُلٌّ مِّنَ الْفُرْقَانِ يُعْطَى وَيُؤْهَبُ کیا ہم اس کی ہدایت کے چشمے کے سوا ہدایت طلب کریں حالانکہ ہر ایک شخص کو ( ہدایت ) قرآن کریم سے ہی دی اور بخشی جاتی ہے۔فَنُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْكَرِيمِ وَكُتُبِهِ فَأَيْنَ بِحِقْدِكَ يَا مُكَفِّرُ تَذْهَبُ پس ہم خدائے کریم اور اس کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔پس اے ملکفر ! تو اپنے کینے کے ساتھ کدھر جا رہا ہے؟ وَ يَعْلَمُ رَبِّي كُلَّمَا فِي غَيْبَتِي عَلِيمٌ فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مُغَيَّبُ اور میرا رب جانتا ہے جو کچھ میرے صندوق سینہ میں ہے۔وہ بہت جاننے والا ہے۔سواس پر کوئی امر غیب مخفی نہیں۔۲۰۴