کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 55
104 103 نزول پر بیروحا باغ وقف کر دیا۔( بخاری کتاب التفسير باب لَنْ تَنَالُو البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) اس زمانہ میں جماعت احمد یہ صحابہ کی اقتداء پر مالی قربانی کر رہی ہے۔مبارک ہو جماعت احمدیہ کو جن میں یہ مبارک نظام جاری ہے اور نظام خلافت کے تحت جماعت احمدیہ میں ایک عالمی بیت المال کا نظام جاری ہے۔جس میں اشاعت اور فلاح و بہبود کیلئے رقوم اکٹھی ہوتی ہیں۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔چندہ عام الہی جماعتوں کی طرح جماعت احمدیہ میں بھی مالی قربانی کا نظام جاری ہے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے اپنے دور میں ہی مالی قربانی کی تحریک کی جس کو چندہ عام کا نام دیا گیا۔اس کی شرح اس وقت چندہ دینے والے کی صوابدید پر تھی مگر بعد میں سیدنا حضرت الصلح الموعود نے اس کی شرح ۱۱۶ مقرر فرمائی۔جو ہر کمانے والے پر واجب ہے۔چندہ وصیت۔۱۹۰۵ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وفات کے قریب آنے کی خبر دی تو آپ علیہ السلام نے ایک رسالہ ”الوصیت تحریر فرمایا۔جس میں آپ علیہ السلام نے بہشتی مقبرہ ( قبرستان ) کیلئے اپنا قطعہ زمین وقف فرمایا اور مزید ضروریات کیلئے کچھ رقم کا مطالبہ بھی کیا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ علیہ السلام اسی رسالہ میں فرماتے ہیں:۔اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کیلئے تجویز کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اس کو بہشتی مقبرہ بنا دے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کیلئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یا رب العالمین۔پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔آمین یا رب العالمین۔پھر تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم اے خدائے غفور و رحیم تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجالاتے ہیں اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کر چکے ہیں جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو جانتا ہے کہ وہ بکلی تیری محبت میں کھوئے گئے۔اللہ تعالیٰ نے الہا ماً اس مقبرہ کے بارہ میں فرمایا:۔اُنْزِلَ فِيْهَا كُلُّ رَحْمَةٍ یعنی ہر قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۸) اور اس میں دفن ہونے والے کیلئے شرائط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اور صاف مسلمان ہو“۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۲۰) پھر فرماتے ہیں۔یادر ہے کہ صرف یہ کافی نہ ہوگا کہ جائیدار منقولہ اور غیر منقولہ کا دسواں حصہ دیا www۔alislam۔org