کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم)

by Other Authors

Page 53 of 59

کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 53

100 99 چھٹا باب نظام جماعت احمدیہ یاد رکھنا چاہئے کہ سارے نظام کا اقتدار اعلیٰ خلیفہ وقت کی ذات ہے۔اور عالمگیر جماعت کی شاخیں دیہاتوں، شہروں سے نکل کر ضلعوں، صوبوں اور ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں جو سب تسبیح کے دانوں کی طرح ایک مضبوط اور مربوط دھاگے میں منسلک ہیں۔جس جگہ بھی تین یا اس سے زائد افراد جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہوں وہاں با قاعدہ جماعت قائم کر دی جاتی ہے اور حسب حالات بذریعہ نامزدگی یا بذریعہ انتخاب وہاں ایک صدر مقرر کر دیا جاتا ہے۔بڑی جماعتوں میں امارت کا نظام قائم ہے۔اس لحاظ سے ہر مقامی جماعت کا صدر یا امیر اعلیٰ عہدیدار ہوتا ہے۔پھر ہر ضلع یا صوبہ کی جمیعت کا ایک امیر مقرر ہوتا ہے پھر اس سے اوپر تمام ملک کا ایک نیشنل امیر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جماعتی نظام کے مختلف شعبے قائم ہیں اور اس کے نگران سیکریڑی کہلاتے ہیں مثلاً سیکریٹری مال، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری جائیداد سیکرٹری ضیافت وغیرہ یہ تمام عہدیدار بذریعہ انتخاب یا بعض حالتوں میں بذریعہ نامزدگی مقرر کئے جا کر محض رضا کارانہ طور پر اخلاص اور قربانی کے ساتھ جماعت کی خدمات بجالانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ان مقامی ضلعی اور صوبائی اور ملکی عہدیداروں کے علاوہ خلیفہ وقت کی نگرانی میں مندرجہ ذیل اہم ادارے کام کرتے ہیں۔مجلس شوری یا مجلس مشاورت یہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک تو انٹر نیشنل شورای ہے خلیفہ وقت کی موجودگی میں منعقد ہوتی ہے جس میں تمام عالمگیر جماعتوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔دوسرے ملکی شوری ہوتی ہے جس میں اس ملک کی مجلس عاملہ کے علاوہ تمام جماعتوں کے امراء وصدر صاحبان اور جماعتوں کے منتخب نمائندے شریک ہو کر اہم جماعتی مشورے کرتے ہیں اور اپنی تجاویز خلیفہ وقت کی خدمت میں راہنمائی اور منظوری کیلئے پیش کرتے ہیں۔اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ملکی شوریٰ ہو یا انٹرنیشنل شوری ہو اس کے نمائندوں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ تمام تجاویز پر غور اور مشورہ کرنے کے بعد اپنی تجاویز خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کر دیں۔آخری فیصلہ خلیفہ وقت کا ہوتا ہے۔خواہ وہ شوری کی سفارشات کو کلیہ نامنظور کر کے اس کے نقصانات وغیرہ کے بارے میں راہنمائی فرماتے ہوئے نئی ہدایات جاری فرمائیں۔جو بھی فیصلہ خلیفہ وقت کی طرف سے صادر ہو جماعت اس کو پورے انشراح صدر کے ساتھ تسلیم کرتی ہے کیونکہ جماعت اس عقیدہ اور یقین پر قائم ہے کہ خلیفہ وقت دعا اور غور وفکر کے بعد اللہ کی راہنمائی سے فیصلہ صادر فرماتے ہیں اور جماعت بار ہا یہ مشاہدہ کر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کے فیصلوں میں برکت بخشتا ہے۔صدرانجمن احمدیہ یہ جماعت کا سب سے بڑا اور اہم ادارہ ہے جو بانی جماعت احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں ہی قائم فرمایا تھا۔جماعت کے لازمی چندہ جات کا انتظام والتزام اور تمام تربیتی، تعلیمی، تبلیغی اور رفاعی کاموں کی نگرانی اس انجمن کے سپرد ہے۔تمام مقامی، ضلعی اور صوبائی امارتوں کے نظام اس انجمن کی نگرانی میں چلتے ہیں۔اس انجمن کے تحت کئی دفاتر اور نظارتیں ہیں ہر نظارت کا اعلی عہد یدار ناظر“ کہلاتا ہے۔مثلاً ناظر تعلیم، ناظر اصلاح وارشاد، ناظر اشاعت، ناظر بیت المال آمد و خرچ ناظر امور عامہ وغیرہ اور پوری انجمن کا نگران ناظر اعلیٰ کہلا تا ہے۔www۔alislam۔org