کامیابی کی راہیں (حصہ چہارم) — Page 12
18 17 صحابہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سيرة حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نام: سعید آپ کے والد زید نے حضور ﷺ کا زمانہ نہیں پایا لیکن اُن کا دل کفر اور شرک سے متنفر تھا۔عرب حضور ﷺ کی بعثت سے قبل اپنے رواج کے مطابق اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔جب کوئی ظالم باپ اپنی لڑکی کو دفن کرنا چاہتا تو زید اپنے ذمہ اس کو لے لیتے جب جوان ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے جی چاہے لے لو یا میرے پاس رہنے دو۔حضرت سعید بن زید حضرت عمر کے بہنوئی اور حضرت فاطمہ بنت الخطاب کے شوہر تھے۔کنیت ابوالاعور حملہ والد کا نام زید دیگر صحابہ کے ساتھ آپ نے مکہ سے مدینہ سے ہجرت کی۔سوائے غزوہ بدر کے سب غزوات میں شامل ہوئے۔غزوہ بدر کے وقت حضور ﷺ نے آپ کو اور حضرت طلحہ کو شام کی حدود پر قریش کے مشہور الله قافلہ کا پتہ چلانے کے لئے بھیجا۔واپسی پر حضور ﷺ نے بدر کے مال غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا نیز فرما یا جہاد کے ثواب سے محروم نہ رہو گے۔عہد فاروقی میں شام کی لڑائی میں آپ پیدل فوج کے افسر تھے۔حمد دمشق کے محاصرہ اور یرموک کی لڑائی میں شریک ہوئے۔فتح شام کے بعد تمام زندگی سکون اور خاموشی سے بسر کی۔50 ہجری یا 51 ہجری میں 70 برس کی عمر میں بمقام عقیق وفات پائی۔جمعہ کا دن تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے غسل دیا اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ لا کر دفن کیا۔آپ کا گزر صرف عقیق کی جاگیر پر تھا۔آخر میں حضرت عثمان نے عراق میں بھی ایک جا گیر دے دی تھی۔نام زید حضرت زید بن حارثہ کنیت: ابواسامه حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس برس چھوٹے تھے یعنی تقریباً 581ء میں پیدا ہوئے۔حضرت زید غلام تھے حضرت خدیجہ نے انہیں خرید لیا اور زمانہ بعثت سے قبل حضرت زید کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت زید کے والد حارثہ مکہ پہنچے تا کہ اپنے بیٹے کو آزاد کر اسکیں لیکن حضرت زید نے آپ ﷺ سے علیحدہ ہونے کو پسند نہ کیا۔اس پر حضور ﷺ نے انہیں اپنا متدینی بنالیا یوں ان کا نام زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشہور ہو گیا۔حضرت زید کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے۔غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔حضرت زید کی شادی رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش سے ہوئی لیکن ناموافقت کے باعث طلاق ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ کنیز اُم ایمن سے شادی کی۔اُم ایمن کے بطن سے اُسامہ پیدا ہوئے۔بدر سے لیکر موتہ تک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے۔بہت بہادر سپاہی اور تیراندازی میں کمال رکھتے۔غزوہ مریسیع کے موقع پر آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں امیر مقرر فرمایا۔بیشتر سرایا میں امارت کے فرائض سرانجام دیئے۔آپ کی شہادت 8 ھ میں غزوہ یرموک میں ہوئی۔اس غزوہ میں آپ کو اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا گیا تھا۔www۔alislam۔org