کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 54 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 54

101 100 آج کی رات ربوہ میں ۲۷ رمضان المبارک کی رات کے روح آفریں مناظر سے متاثر ہوکر ) ذکر سے بھر گئی ربوہ کی زمین آج کی رات خداوند یہیں آج کی رات اتر آیا ہے جنت کے ملا کرتے تھے طعنے جسے وہ شہر بن گیا واقعہ خلد بریں آج کی رات کوچے و وا در گریه کشادیده دل لب آزاد مزے میں ہیں تیرے خاک نشین آج کی رات کوچے میں بپاشور ومتی نصر الله لائجرم نصرت باری ہے قریں آج کی رات جانے کس فکر میں غلطاں ہے مرا کافر گر ادھر اک بار جو آنکلے کہیں آج کی رات غیر مسلم کے کہتے ایک اک ساکن ربوہ کی جبیں آج کی رات کا فرو ملحدو دجال بلا تیرے عشاق کوئی ہیں تو ہمیں آج کی رات ہیں اسے ہوں دکھلائے کو آنکھ اپنی ہی تیرے عشق میں ٹپکاتی ہے وہ لہو جس کا کوئی مول نہیں آج کی رات دیکھ اس درجه غم ہجر میں روتے روتے مر نہ جائیں تیرے دیوانے کہیں آج کی رات www۔alislam۔org جن گزری ہے وہی جانتے ہیں غیروں کو کیسے بتلائیں کہ تھی کتنی حسیں آج کی رات حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب) مر دِحق کی دعا دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفتِ ظلمت و جورٹل جائے گی آہ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا رُخ پلٹ جائے گا رُت بدل جائے گی تم دعائیں کرو یہ دعا ہی تو تھی، جس نے توڑا تھا سر کیر نمرود کا ہے ازل سے یہ تقدیر نمرود دیت، آپ ہی آگ میں اپنی جل جائے گی دعا ہی کا تھا معجزہ کہ عصا ساحروں کے مقابل بنا اژدھا آج بھی دیکھنا مردحق کی دعا سحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی خُوں شہیدانِ اُمت کا اے کم نظر رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائے گا ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے ، پھول پھل لائے گی پھول پھل جائے گی ہے تیرے پاس کیا گالیوں کے سوا ساتھ میرے ہے تائید رب الورای کل چلی تھی جو لیکھو یہ تیغ دعا آج بھی اذن ہو گا تو چل جائے گی دیرا گر ہو تو اندھیرا ہر گز نہیں، قولِ اُملِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِين سنت اللہ ہے لاجرم بالیقین، بات ایسی نہیں کہ بدل جائے گی یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا تیری آواز اے دشمن بد نوا دو قدم دور دو تین پل جائے گی عصر بیمار کا ہے مرض لا دوا کوئی چارہ نہیں اب دعا کے سوا اے غلام مسیح الزماں ہاتھ اُٹھا، موت بھی آ گئی ہو تو ٹل جائے