کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 43 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 43

79 78 تاریخ احمدیت سال 1940 ء تا 1965 ۱۹۴۰ء ۲۶ جنوری: حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی قائم کردہ ہجری کشی تقویم پہلی دفعہ الفضل میں شائع ہوئی اور پھر یہ کیلنڈر جماعت میں رائج ہو گیا۔۱۹ فروری: اپنے عقیدہ کے بارے میں حضور کی تقریر بمبئی ریڈیو اسٹیشن سے پڑھ کر سنائی گئی۔۲۶ جولائی: حضور نے مجلس انصار اللہ مرکز یہ قائم کی۔۷۔اگست: انگلستان میں پہلا مناظرہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک پادری سے کیا۔۲۰۔اکتوبر : احمد یہ بیت الذکر سرینگر کشمیر کی بنیا د رکھی۔١٩٤١ء ۱۳ جنوری: سلطان زنجبار کو احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔۲۵ مئی: حضور نے لاہور ریڈیو اسٹیشن سے عراق کے حالات پر تبصرہ “ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔جسے دہلی اور لکھنؤ کے ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر کیا گیا۔۲۴ اگست : بیت الاحمدیہ کوئٹہ کی بنیا د رکھی گئی۔۱۲ دسمبر : حضور نے رو یا بیان فرمائی جس میں بتایا گیا تھا کہ حضور کو مستقبل میں ہجرت کر کے پہاڑیوں کی وادی میں تنظیم کی غرض سے نیا مرکز قائم کرنا پڑے گا۔۱۹۴۲ء امئی : مصر کے علامہ محمود لاھوت کا فتویٰ وفات مسیح کے بارہ میں ہفتہ وار الرسالہ میں www۔alislam۔org شائع ہوا۔۲۲ مئی: حضور نے غرباء کے لئے پانچ سو من غلہ کا مطالبہ فرمایا۔جماعت نے پندرہ سو من غلہ پیش کر دیا۔۲۷ نومبر : حضور نے جماعت کو سینما بینی اور ریڈیو کے بداثرات سے بچنے کی نصیحت فرمائی۔١٩٤٣ء ۲۹ جنوری: حضور نے وقف زندگی اسکیم برائے دیہاتی مبلغین جاری فرمائی۔۱۲ مارچ: لیگوس نائیجریا کی پہلی بیت الذکر کی بنیا د رکھی گئی۔اپریل: حضور نے مجلس مشاورت کے دوران مخلوط تعلیم کی ممانعت فرمائی اگست: حضور نے بنگال اور اڑیسہ کے قحط زدگان کی مدد کے لئے تحریک فرمائی۔اسی سال حضور نے افتاء کمیٹی قائم کی۔۱۹۴۴ء ۶٬۵ جنوری کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ نے رویا میں حضور پر مصلح موعود ہونے کا انکشاف فرمایا۔۲۸ جنوری: حضور نے پہلی دفعہ مصلح موعود کے بارہ میں پیشگوئی کا مصداق ہونے کا دعویٰ فرمایا۔۲۹ جنوری: قادیان میں پہلی بار یوم مصلح موعود منایا گیا۔۴ جون : تعلیم الاسلام کا لج قادیان کا حضور نے افتتاح فرمایا۔۲۴ نومبر : حضور نے تحریک جدید کے پہلے دس سالہ دور کے اختتام پر دفتر دوم کی بنیاد رکھی۔۲۵ دسمبر: مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے پہلے سالانہ اجتماع کا افتتاح بیت اقصیٰ قادیان میں حضور نے فرمایا۔