کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 42
77 76 حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیلی رضی اللہ عنہ صاحب کشوف رؤیا اور مستجاب الدعوات بزرگ آپ 1877 ء اور 1879 ء کے درمیانی عرصہ میں پیدا ہوئے۔1897 ء میں بیعت کی۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے آپ کو لاہور مربی سلسلہ مقرر فرمایا۔آپ نے اپنے حالات زندگی حیات قدسی‘ میں محفوظ کئے۔آپ نے 16 دسمبر 1963ء کو وفات پائی۔آپ ایک صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔آپ اُردو اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ آپ 1879ء میں پیدا ہوئے۔احمدیت قبول کرنے سے قبل ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔اور ہریش چندر نام تھا۔1894ء میں احمدیت قبول کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کا اسلامی نام عبد الرحمن تجویز فرمایا تقسیم ملک کے بعد آپ کو در ویش بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔آپ نے 1961ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں وفات پائی۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ آپ 1878 ء میں پیدا ہوئے اور 1899 ء میں بیعت کی۔1914 ء میں برطانیہ کے پہلے مبلغ کے طور پر تشریف لے گئے اور لندن مشن کی بنیا د رکھی۔1921 ء میں آپ مجاہدین ملکانہ کے امیر تھے۔ملکانہ کے علاقہ میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہندو بنانا شروع کیا تو اس کی روک تھام کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجاہدین وہاں بھجوائے۔www۔alislam۔org آپ نے 1960 ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔حضرت حافظ روشن علی خان صاحب رضی اللہ عنہ آپ 1883 ء میں پیدا ہوئے۔1900 ء میں بیعت کی۔علم قرآن حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل سے حاصل کیا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی کے ہم جماعت تھے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور حضرت مولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی آپ کے شاگرد تھے۔آپ فقہ احمدیہ کے مصنف تھے۔آپ کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے آپ کو حضرت مولوی عبدالکریم ثانی قرار دیا۔آپ 23 جون 1929 ء کو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے آپ کی نماز جنازہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھائی جو اس وقت امیر مقامی قادیان تھے۔( حضرت خلیفہ اسیح الثانی سری نگر کشمیر تشریف لے گئے ہوئے تھے )