کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 40 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 40

73 72 سیرۃ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نام: زبیر کنیت: ابو عبد الله لقب : حواری رسول الله والد کا نام : عوام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔حضرت خدیجہ الکبری کے حقیقی بھتیجے اور حضرت ابوبکر صدیق کے داماد تھے۔سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔آپ سے قبل پانچ چھ افراد مسلمان ہوئے۔قبول اسلام کے بعد ایک دفعہ کسی نے مشہور کر دیا کہ مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر لیا ہے۔آپ ننگی تلوار لئے مجمع کو چیرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ زبیر! یہ کیا ہے؟ عرض کی کہ میں نے یہ سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گرفتار کر لئے گئے۔آپ نہایت خوش ہوئے اور حضرت زبیر کے لئے دعائے خیر فرمائی۔اسلام لانے کے بعد آپ کے چچانے نہایت سختی کی۔مارا پیٹا اور چٹائی میں باندھ کر دھونی دیتے کہ دم گھٹنے لگتا۔تا کہ اسلام چھوڑ دیں۔مگر آپ ثابت قدم رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ بھی حبشہ سے مدینہ آ گئے۔ہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔یہ غزوہ بدر میں نہایت دلیری سے لڑے جس طرف رخ کرتے کفار کی صف تہ تیغ کر دیتے۔غزوہ اُحد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر برستے تیرا اپنے ہاتھ پر لیتے رہے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں۔www۔alislam۔org فتح مکہ کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو علم بردار مقرر فرمایا۔ایک گھاٹی میں غزوہ حنین میں کفار کی ایک بڑی تعداد چھپی ہوئی تھی آپ نے نہایت دلیری سے لڑتے ہوئے اسے خالی کروایا۔طائف اور تبوک کی لڑائیوں میں شریک ہوئے۔م حجۃ الوداع میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔حضرت عمر کے دور میں جنگ یرموک میں شرکت کی۔اسکندریہ کی فتح میں نمایاں کام کیا۔حضرت علیؓ کے دور میں جنگ جمل کے فتنہ سے بچنے کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔راہ میں عمرو بن جرموز نے نماز ظہر میں سجدہ کی حالت میں آپ کو شہید کیا۔۳۶ ہجری میں شہید ہوئے۔چونسٹھ سال عمر پائی۔نہایت متقی۔پرہیز گار حق پسند سخی۔ایثار کرنے والے۔دل میں خدا خوفی ہوتی تھی۔خطرات کی بالکل پرواہ نہ کرتے تھے۔لوگ اپنے مرنے پر اپنے مال و متاع کا آپ کو محافظ بناتے تھے۔آپ کے ایک ہزار غلام تھے۔وہ اجرت پر کام کرتے تھے جو آمد ہوتی وہ سب رقم خیرات کر دیتے۔آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔آپ کی جائیداد کا اندازہ پانچ کروڑ درہم یا دینا ر تھا۔آپ زراعت بھی کرتے تھے۔باوجود امارت کے خوراک بہت سادہ اور معمولی لباس پہنتے تھے۔☆☆☆