کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 38
69 69 80 68 مکہ کی ویران گھاٹیوں میں چھپ کر عبادت کرتے رہے۔اسلام لانے کے بعد ہجرت تک مکہ میں ہی مقیم رہے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو ہجرت مدینہ کا حکم دیا تو آپ بھی مدینہ چلے گئے اور اپنے بھائی عبہ کے مکان پر ٹھہرے۔تمام غزوات میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں کفار کے سردار سعید بن العاض کو تلوار سے مارا اور اس کی تلوار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو عنایت فرمائی۔جنگ احد میں دشمنوں کے اچانک حملہ کے وقت آپ ثابت قدم صحابہ میں شامل تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کو اپنے ترکش سے تیر نکال کر دیے تا کہ دشمنوں پر چلا ئیں۔آپ تیراندازی میں کمال رکھے تھے۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سعد کے سوا کسی کے لئے فِدَاكَ اَبِی وَأُمِّي کہتے نہیں سنا۔حمد حجۃ الوداع کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مکہ پہنچ کر سخت علیل ہو گئے۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے تو عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس مال بہت ہے اور صرف ایک لڑکی وارث ہے۔اگر اجازت ہو تو دو ثلث مال کار خیر میں دیدوں۔ارشاد ہوا نہیں۔پھر عرض کیا نصف سہی۔حکم ہوا نہیں۔فرمایا صرف ایک ثلث اور یہ بھی بہت ہے۔تم اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑ کر جاؤ کہ وہ کسی کے سامنے دست سوال نہ پھیلائیں۔جب بیماری زیادہ بڑھی تو رونے لگے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا روتے کیوں ہو۔عرض کیا معلوم ہوتا ہے کہ جس سرزمین کو خدا اور رسول کی محبت میں چھوڑا تھا۔وہیں کی خاک ہونا ہے۔آپ ﷺ نے تسلی دی اور دعا کی اور پھر فرمایا اے سعد! تم اس وقت تک نہیں مرو گے جب تک تم سے ایک قوم کو نقصان، دوسری کو نفع نہ پہنچ لے۔اس پر www۔alislam۔org آپ خوش ہوئے۔حضرت ابو بکر کی خلافت پر سب صحابہ کے ساتھ بیعت کی۔حضرت عمر نے اپنے زمانہ میں قادسیہ فوج بھیجی جس کا سردار آپ کو مقرر کیا اور آپ لشکر کو لے کر قادسیہ پہنچے۔لڑائی سے قبل 14 آدمی منتخب کر کے مدائن روانہ کئے تا کہ شاہ ایران کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں۔وفد نے پہلے اسلام کی دعوت دی جب وہ نہ مانا تو اسے کہا کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی یاد دلاتے ہیں کہ ایک دن تمہاری زمین ہمارے قبضہ میں آئے گی۔وہ نہایت غصہ میں آیا اور مٹی منگوا کر کہا کہ لو یہ تم کو ملے گی۔عمرو بن معدی کرب نے اس کو اپنی چادر میں لے لیا اور حضرت سعدؓ کے پاس آئے اور سامنے رکھ کر کہا فتح مبارک ہو۔دشمن نے خود اپنی زمین ہم کو دے دی۔جنگ قادسیہ میں فتح کے بعد بابل بہدہ شیر اور مدائن پر بھی قبضہ کر لیا۔آپ مدائن کے حاکم مقرر ہوئے۔حضرت عمرؓ کی اجازت سے مدائن سے کچھ فاصلے پر ایک شہر بسایا جس کا نام کوفہ رکھا۔اس میں عربوں کو آباد کیا وہاں ایک عظیم الشان مسجد بنوائی جس میں 40 ہزار مسلمان نماز پڑھ سکتے تھے۔ایک چھاؤنی بنوائی جس میں ایک لاکھ فوج رہتی تھی۔55 ہجری میں بمقام عقیق انتقال ہوا۔لاش مدینہ لائی گئی۔مسجد نبوی ﷺ میں نماز جنازہ پڑھی گئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔وفات کے وقت عمر 70 برس سے زائد صلى الله تھی۔حضرت عمرؓ نے آپ کی سچائی کے متعلق فرمایا اگر یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کریں تو اس کے متعلق کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔خوف خدا۔محبت رسول۔پرہیز گاری۔بے نیازی۔خاکساری یہ اوصاف کامل طور پر تھے۔غزوات میں عموماً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ مبارک کا پہرہ دیتے تھے۔