کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 37 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 37

67 99 66 ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دی۔آپ نے اپنا نصف مال یعنی چار ہزار درہم پیش کئے۔دو بار چالیس چالیس ہزار دینار وقف کئے۔جہاد کے لئے پانچ سوگھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کئے۔عام صدقات و خیرات کا یہ حال تھا کہ ایک ایک دن میں تھیں تھیں غلام آزاد کر دیئے۔وفات کے وقت پچاس ہزار دینار اور ایک ہزار گھوڑے راہ خدا میں وقف کئے۔امہات المومنین کے لئے ایک باغ کی وصیت کی جو چار لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔نماز نہایت خشوع و خضوع سے پڑھتے۔نماز ظہر کے وقت فرض سے پہلے دیر تک نوافل پڑھتے۔ہ کثرت سے روزے رکھتے۔بار ہا حج کے لئے تشریف لے گئے۔اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔بعد میں کھیتی کا کام بھی بڑے پیمانہ پر کرنے لگے۔دستر خوان نہایت وسیع تھا۔لیکن پر تکلف نہ تھا۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن الجراح آپ کا نام عبد اللہ بن الجراح تھا۔آپ کا لقب ”امین الامت تھا۔آپ کے والد بحالت کفر غزوہ بدر میں اپنے بیٹے ابو عبیدہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔آپ کی والدہ مسلمان ہوگئی تھیں۔اور ان کا شمار صحابیات میں ہوتا ہے۔آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جو اپنی کنیت سے مشہور ہوئے۔آپ السابقون الاولون اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔www۔alislam۔org مدینہ ہجرت کی تو کلثوم بن ھدم کے ہاں قیام فرمایا۔حدیبیہ ۶ ھ کے صلح نامے میں بھی ان کے دستخط بطور گواہ شامل تھے۔آپ نے ذات السلاسل، سیف البحر اور غزوۃ الفتح میں بھی حصہ لیا۔آخری غزوہ میں فوج کے ایک حصہ کی امارت ان کے سپر دتھی۔9ھ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نجران تبلیغ اسلام اور صدقات کی وصولی کے لئے روانہ کیا۔اسی موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امین الامت کہا۔حضرت ابو بکر نے آپ کو حمص کی فتح کے لئے نامز دفرمایا۔حضرت عمر نے آپ کو شام میں مسلمانوں کی فوج کے سپہ سالار اعظم مقرر فرمایا۔حضرت ابوعبیدۃ ” کا تقویٰ انکی سادگی اور زہد، تواضع، انکساری، شجاعت اور ہمت ایثار رحمدلی اور زندہ دلی صحابہ میں نمایاں تھی۔آپ کی وفات طاعون کی وبا سے ہوئی۔حضرت معاذ بن جبل نے تجہیز و تکفین کا بند و بست کیا۔سيرة حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ا نام سعد حل کنیت ابو اسحق والد کا نام مالک والد کی کنیت ابو وقاص زہری خاندان سے تھے۔رشتہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے۔انیس برس کی عمر میں حضرت ابو بکر کے ہمراہ آ کر بیعت کی۔آپ کے قبول اسلام پر والدہ نے دباؤ ڈالنے کے لئے بات چیت اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔مگر آپ نے ثابت قدمی دکھائی۔قبول اسلام کے بعد مکہ میں رہ کر ہر قسم کی سختیاں جھیلتے رہے۔