کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 36
65 55 64 17۔قصو الشَّوارِبَ وَ مونچھیں ترشوا یا کرو (یعنی چھوٹی رکھا کرو) اعْفُوا اللحى اور داڑھیاں چھوڑ ا کرو (یعنی منڈوایا نہ کرو) 18 - إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي إِنَّ حضرت جبریل نے مجھے خبر دی ہے کہ عیسی عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ ابن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ 19 - خَيْرُكُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو قرآن الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ۔مجید سیکھتا اور پھر اسے دوسروں کو سکھاتا ہے۔20 أكَرِمُوا أَوْلَادَكُمُ اپنی اولاد کی عزت کرو اور اچھے رنگ میں وَاحْسِنُوا أَدَبَهُمْ۔ان کی تربیت کرو۔www۔alislam۔org سيرة حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نام عبدالرحمن کنیت ابو محمد والد کا نام عوف ۳۰۰ یا ۲ ۳ سال کی عمر میں حضرت ابو بکر کے ذریعہ اسلام قبول کیا۔پہلے حبشہ ہجرت کی پھر واپس آ کر سب کے ساتھ مدینہ گئے۔پیشہ تجارت تمام غزوات میں شامل ہوئے۔غزوہ اُحد میں بدن پر 20 سے زائد زخم آئے۔۔۔۔۔۔دومۃ الجندل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے آپ کے سر پر عمامہ باندھااورعام عطا فرمایا۔ه حضرت ابو بکر کی تیسرے نمبر پر آپ نے بیعت کی۔حضرت عمر کی شہادت پر خلافت کا مسئلہ آپ کی دانائی سے طے ہوا۔۳۱ ہجری کو حضرت عثمان کے دور خلافت میں 75 برس کی عمر میں فوت ہوئے۔نماز جنازہ حضرت عثمان نے پڑھائی۔جنت البقیع میں دفن ہوئے۔آپ میں خوف خدا محبت رسول۔سچائی۔پاک دامنی۔رحم۔فیاضی۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔یہ سب صفتیں موجود تھیں۔- آنحضرت اللہ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات کے سفر اور حج وغیرہ میں ساتھ جاتے۔سواری اور پردہ کا انتظام کرتے اور ہر قسم کی ضروریات کا خیال کرتے۔ایک دفعہ آپ کا تجارتی قافلہ مدینہ آیا تو اس میں سات سو اونٹوں پر صرف گیہوں اور آٹا وغیرہ تھا۔آپ نے پورا قافلہ مع غلہ اور اونٹوں اور کجاوہ کے راہ خدا میں دے دیا۔