کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 31 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 31

55 54 نماز قصر چار رکعت والی فرض نماز کوسفر کی حالت میں دو رکعت پڑھیں۔سنتیں معاف ہیں۔مگر وتر اور فجر کی دوسنتیں پڑھنی ضروری ہیں۔سفر کی حد بندی میں علماء وفقہا کا اختلاف ہے مگر اَلسَّفَرُ سَقَرٌ وَلَوْ كَانَ مِيلًا سفر دوزخ ہے خواہ ایک میل ہی ہو۔(الحدیث) لیکن جب کوئی سفر کی نیت کر کے گھر سے چل پڑے تو وہ اپنے شہر کی حدود سے باہر نکلنے پر نماز قصر کرے۔اگر کسی جگہ پر پندرہ دن یا زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھے۔مسافر کو چاہئے کہ مقیم امام کے پیچھے پوری نماز پڑھے۔اگر مسافر امام ہو تو قصر نماز پڑھائے اور سلام پھیرنے کے بعد متقیم مقتدی اپنی اپنی نماز پوری کریں۔جوشخص ملازمت یا تجارت یا معمول کی ڈیوٹی وغیرہ کی غرض سے دورہ یا سفر کرتا ہے وہ پوری نماز پڑھے۔نماز جمع بیماری سفر، بارش، طوفان بادوباراں سخت کیچڑ اور سخت اندھیرے میں جب کہ مسجد میں بار بار آنے جانے سے دقت کا سامنا ہو۔اسی طرح کسی اہم دینی اجتماعی کا م کی صورت میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔جماعت سے بھی اور اکیلے بھی جمع تقدیم مثلاً ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر۔اور جمع تاخیر مثلاً عصر کے وقت میں ظہر و عصر دونوں صورتیں جائز ہیں۔نمازیں جمع کرنی ہوں تو ایک اذان کافی ہے۔البتہ اقامت ہر ایک کے لئے الگ الگ ہو۔بصورت جمع سنتوں کا پڑھنا بھی ضروری نہیں رہتا۔با جماعت نمازیں جمع کرنے کی صورت میں اگر امام پہلی نماز پڑھانے کے بعد www۔alislam۔org دوسری نماز پڑھا رہا ہو تو جو شخص بعد میں مسجد آئے۔اگر اسے معلوم ہو جائے کہ امام کونسی نماز پڑھا رہا ہے۔تو پھر وہ پہلے اس نماز کو ادا کرے جو امام پڑھا چکا ہے۔اس کے بعد امام کے ساتھ شامل ہو لیکن اگر اسے معلوم نہیں ہو سکا کہ کونسی نماز ہورہی ہے اور وہ یہ سمجھ کر شامل ہو جاتا ہے کہ امام کی یہ پہلی نماز ہے تو امام کی نیت کے مطابق اس کی نماز ہو جائے گی اور پھر بعد میں وہ پہلی نماز پڑھ لے۔بہر حال علم ہو جانے کی صورت میں نمازوں کی ترتیب کو قائم رکھنا ضروری ہے خواہ جماعت ملے یا نہ ملے۔نماز سفر شروع میں ظہر عصر اور عشاء کی نمازیں فجر کی طرح دو دو رکعت تھیں۔لیکن بعد میں سفر کی حالت میں تو یہ دو دو رکعتیں ہی رہیں لیکن اقامت کی حالت میں دوگنی یعنی چار چار رکعت کر دی گئیں۔اس تبدیلی کی بناء پر مسافر جس کا کسی جگہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو ظہر۔عصر اور عشاء کی نمار دو دورکعت پڑھے گا اور مقیم چار چار رکعت پڑھے گا۔مغرب اور فجر کی رکعتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اگر انسان کسی ایسے عزیز کے گھر میں مقیم ہے جسے وہ اپنا ہی گھر سمجھتا ہے۔جیسے والدین کا گھر۔سرال کا گھر یا مذہبی مرکز مثلاً مکہ مدینہ قادیان اور ربوہ وغیرہ تو قیام کے دوران میں چاہے تو اس رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو رکعت پڑھے اور چاہے تو پوری نماز یعنی چار رکعت پڑھے۔سفر میں وتر اور فجر کی دوسنتوں کے علاوہ باقی سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔نفل پڑھے یا نہ پڑھے یہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے۔سفر میں نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہے۔اگر امام مقیم ہوتو مسافر مقتدی اس کی اتباع میں پوری نماز پڑھے گا اور اگر امام مسافر ہو تو امام دو رکعت پڑھے گا اور اس کے مقیم مقتدی کھڑے ہو کر بقیہ رکعتیں پوری کر کے