کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 28
49 49 میری دعائیں ساری کریو قبول باری میں جاؤں تیرے واری کر تو مدد ہماری پہ آئے لیکر امید بھاری ہم تیرے در یہ روز کر مبارک سُبحَنَ مَنْ يَرَانِي تیری محبت میں پیارے تری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اٹھائیں گے ہم مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم گے ہم تری محبت کے جرم میں ہاں جو پیں بھی ڈالے جائیں گے ہم تو اس کو جانیں گے عین راحت نہ دل میں کچھ خیال لائیں گے ہم سنیں گے ہر گز نہ غیر کی ہم نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم بس ایک تیرے حضور میں ہی سر اطاعت جھکائیں جو کوئی ٹھوکر بھی مارے گا تو اس کو سہہ لیں گے ہم خوشی۔کہیں گے اپنی سزا یہی تھی شکوہ نہ لائیں گے ہم ہمارے حال خراب پر گو ہی انہیں آج آ رہی ہے مگر کسی دن تمام دنیا کو ساتھ اپنے دلائیں گے ہم زباں پہ ہوا ہے سارا زمانہ دشمن ہیں اپنے بیگانے خوں کے پیاسے جو تو نے بھی ہم سے بے رخی کی تو پھر تو بس مر ہی جائیں گے ہم یقین دلاتے رہے ہیں دنیا کو تیری الفت کا مدتوں جو آج تو نے نہ کی رفاقت کسی کو کیا منہ دکھائیں گے ہم سمجھتے کیا ہو کہ عشق کیا ہے یہ عشق پیار و کٹھن بلا ہے جو اس کی فرقت میں ہم پہ گزری کبھی وہ قصہ سنائیں گے ہم www۔alislam۔org مٹا کے نقش ہے 50 50 نفس ہمیں نہیں عطر کی ضرورت کہ اس کی خوشبو ہے چند روزہ ہوئے محبت سے اس کی اپنے دماغ و دل کو بسائیں گے ہم ہمیں بھی نسبت تلمذ کسی مسیحا سے حاصل ہوا ہے بے جان گو کہ مسلم مگر اب اس کو چلائیں گے ہم و نگار دیں کو یونہی ہے خوش دشمن حقیقت جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم نے ہے خضر رہ بنایا ہمیں طریق محمدی کا جو بھولے بھٹکے ہوئے ہیں ان کو صنم سے لا کر ملائیں گے ہم مٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گے آثار دیں کو تازہ خدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اڑائیں گے ہم خدا نونهالان جماعت نونهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو تا کہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار ستیاں ترک کرو طالب آرام نہ ہو خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلہ میں بھی طالب انعام نہ ہو دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو ہو مغز فقط نام نہ ہو تم میں اسلام رغبت دل کا ہو پابند نماز و احکام انداز کوئی حصة روزه ہو