کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 13 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 13

20 20 19 حضرت محمد مصطفی اللہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَصحَابِي كَالنُّجُومِ بِآتِهِم اقْتَدَيْتُم اهْتَدَيْتُم۔میرے صحابہ ستاروں کی الله مانند ہیں۔ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔نوٹ : آنحضرت اللہ کا صحابی وہ ہے جس نے آپ کو دیکھا آپ پر ایمان لایا اور پھر اس نے آپ ﷺ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل کیا اور ایمان کی حالت میں فوت ہوا۔انہی اصحاب سے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں۔اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مشہور صحابہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔حضرت بلال له حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک حبشی غلام تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتداء میں ہی آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔جب وہ اسلام لائے تو انہیں قسم قسم کے عذاب دیئے جانے لگے تا وہ ان تکالیف کی تاب نہ لا کر اپنے دین سے پھر جائیں۔جو شخص حضرت بلال کو زیادہ عذاب دیتا تھا وہ ان کا آقا امیہ تھا۔وہ آپ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتا اور آپ کے اُوپر پتھر اور کھال ڈال کر کہتا کہ تمہارے رب لات وغڑی ( دو بتوں کے نام ) ہیں۔تم بھی ان کا اقرار کرو لیکن آپ احد احد ہی کہتے چلے جاتے۔حضرت بلال کی حالت زار کی خبر رسول اللہ ﷺ کو برابر پہنچتی تھی اور آپ کا دل ان www۔alislam۔org کی تکالیف سن کر سخت مضطرب اور بے چین رہتا۔آخر ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم بلال کو آزاد کروا لیتے۔حضرت ابو بکر نے آنحضرت عمر کا ارشادسُنا۔فوراً اٹھے اور جا کر اُمیہ سے بلال خرید کر آزاد کر دیئے۔جب مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی مدینہ پہنچ گئے۔مدینہ پہنچ کر بھی ان کے دل صلى الله سے ملکہ کی یاد محو نہ ہوئی۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں مکہ سے کس قدر محبت تھی۔حضرت بلال کی آواز بہت بلند اور دلکش تھی ہجرت کے بعد جب اذان کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے یہ خدمت حضرت بلال کے سپرد کی گئی۔اس طرح اسلام کا سب سے پہلا مؤذن ہونے کا شرف آپ کو حاصل ہوا، مگر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ نے اذان دینا چھوڑ دی تھی۔۱۶ ہجری میں جب خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے شام کا سفر کیا تو اس موقعہ پر حضرت عمرؓ کی شدید خواہش کے پیش نظر آپ سے اذان دینے کی درخواست کی گئی جسے آپ نے منظور فرما لیا۔جو نہی یہ خبر مشہور ہوئی کہ حضرت بلال صبح کی اذان دیں گے تو تمام لشکر پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی اور ہر شخص دیوانہ وار مسجد کی طرف بھاگنے لگا کیونکہ ایک لمبے عرصہ کے بعد انہیں حضرت بلال کی زبان سے اذان سننے کی سعادت نصیب ہو رہی تھی۔جب آپ نے اذان دینی شروع کی تو سب صحابہ کو آنحضرت ﷺ کا زمانہ یاد آ گیا۔حضرت طلحہ بن عبد الله الله حضرت طلحہ ان دس مبارک صحابہ میں شامل تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنا دی تھی۔ان دس صحابہ کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔حضرت طلحہ بڑے بہادر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے۔جنگ اُحد میں جب کا فرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر برسا رہے تھے۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لئے کئی تیر اپنے بدن پر لئے اور اسی کوشش میں ان