کامیابی کی راہیں (حصہ اوّل) — Page 3
پیش لفظ اسلام نے بچے کی پیدائش کے فورا بعد اسکے کان میں اذان کی تعلیم دے کر اس انتہائی اہم اصول کی طرف توجہ دلائی کہ بچے کی تعلیم و تربیت کا یہی ایک اہم زمانہ ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی زمانے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔”دینی علوم کی تحصیل کے لئے طفولیت کا زمانہ بہت ہی مناسب اور موزون ہے۔۔۔۔طفولیت کا حافظہ تیز ہوتا ہے۔انسانی عمر کے کسی دوسرے حصہ میں ایسا حافظہ کبھی بھی نہیں ہوتا۔پہلی عمر میں علم کے نقوش ایسے طور پر اپنی جگہ کر لیتے ہیں اور قومی کے نشو ونما کی عمر ہونے کے باعث ایسے دلنشین ہو جاتے ہیں کہ پھر ضائع نہیں ہو سکتے۔( ملفوظات جلد اول ص : 44 طبع جدید ) حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔در حقیقت اگر ہم غور کریں تو بچپن کا زمانہ سب سے زیادہ سیکھنے کے لئے موزوں ہوتا ہے اور اسی عمر میں اس کی تربیت اسلامی اصول پر کرنی چاہیے اس کو بچہ بعض اعمال کے لحاظ سے معذور سمجھا جاتا ہے سیکھنے کا عمدہ زمانہ اس کی ؤ ہی عمر ہے۔“ مشعلِ راه جلد اول ص:513) مجلس اطفال الاحمدیہ کی تعظیم کی بنیاد کا بنیادی مقصد بچوں کی انہیں صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کی ذہنی نشو ونما کے ساتھ ساتھ اسلام اور احمدیت کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کروانا ہے۔مجلس اطفال الاحمدیہ نے احمدی بچوں اور بچیوں کیلئے ایک نئی کتاب ” کامیابی کی راہیں“ کے عنوان سے چار حصوں میں مرتب کی ہے جس میں بچوں کی عمر کے حساب سے الگ الگ حصوں میں بنیادی اور ضروری معلومات اور دینی مسائل آسان اور سادہ انداز میں بتائے گئے ہیں۔پیارے احمدی بچوں اور بچیوں سے درخواست ہے کہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور ان باتوں کو اپنے حافظے میں نقش کرلیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور خاکسار کی احمدی والدین اور بڑوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ خود بھی اس کا مطالعہ کریں تا کہ اپنے بچوں کی اچھے رنگ میں تربیت کر کے احمدیت اور ملک وقوم کا ایک اچھا فرد بن سکیں۔اور پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ