کلمۃ الفصل — Page 52
ریویو انت المجنز IM بقوله كذريع اخرج شطأ لا الى قوم أخرين منهم واما مهم المسيح - بل ذكر اسمه احمد بالتصريح ؟ ان تمام حوالجات سے یہ بات یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ سورۃ صفت میں جس احمد رسول کے متعلق عیسی علیہ السلام نے پیشگوئی کی ہے وہ احمد مسیح موعود ہی ہے جیکی بعثت حسب وعده الهی و آخرین منھم خود ہی کریم کی بعثت ہے علاوہ اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سورۃ صف میں لکھا ہے کہ یریدون ليطفوا نور الله با خواهم اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیشگوئی مسیح موعود کے متعلق ہے کیونکہ نبی کریم کے زمانے میں منہ کی پھونکوں یعنی کفر کے فتوے وغیرہ سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ آپ کے مخالفوں نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی لیکن مسیح موعود یعنی احمد کا زمانہ تلوار کا زمانہ نہیں بلکہ یضع الحرب کا زمانہ ہے اس لیے مخالف تلوار تو نہیں اٹھا سکے مگر انہوں نے ناخنوں تک زور لگایا لطف وما نور الله با خوا همو لیکن ان کے مقابل بھی کوئی معمولی انسان نہ تھا بلکہ دم سے کا فر مرتے تھے۔فقد بروا خلاصہ کلام ہے کہ حضرت مسیح موعود کا اللہ تعالی نے بار بار اپنے الہام میں احمد نام رکھا۔اس لیے آپ کا شکر کا فرہے کیونکہ احمد کے منکر کے لیے قرآن میں لکھا ہے والله متم نوره ولوكرة الكافرون - پھر حقیقۃ الوحی صفحہ ہے پر حضرت مسیح موعود کا ایک الهام درج ہے وبشر الذين أمنوا ان لهم قد مصدق عند ربهم اس الہام میں اللہ تعالی نے مومن صرف ان لوگوں کو کہا ہے جو حضرت مسیح موجود پر ایمان لے آئے ہیں۔پھر اسی کتاب کے صفورا ، پر ایک الہام لکھا ہے کہ وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطیب اس الہام میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے خبیث اور طبیب۔اور وہ دو گروہ مومنین اور منکرین کے ہیں۔پھر حضرت صاحب کا یہ بھی ایک الہام ہے ان الذین کفر را وصدوا عن سبيل الله بردّ عليهم رجل من فارس شكر الله سعيده پھر یہ الہامات بھی حضرت صاحب کے قابل غور ہیں دنی فتدلی فکان قاب قوسین