کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 95

کلمۃ الفصل — Page 46

نمبر ۳ ریویو ان الحجز۔۔۔۱۳۵ جو مجھے نہیں مانتادہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی میشکونی موجود ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری اُمت سے ہی مسیح موعود آئیگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی ربات مسیح بن مریم کو ان نبیوں میں دیکھ آیا ہوں جو اس دنیا سے گذر گئے ہیں اور بیٹی شہید کے پاس دوسرے آسمان میں انکو دیکھا ہے اور خدا تعالٰی نے قرآن شریف میں خبر دی کہ صحیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لیے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کیئے اور آسمان میں کسوف خوف رمضان میں ہوا اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمد اخدا تعالی کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھکو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا کیونکہ میں انکی نظر میں مفتری ہوں اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ولمّا يدخل الإيمان في قلوبكم یعنی عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ان سے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ہاں ہوں کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کر لی ہے اور ایمان ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔پس جبکہ خدا اطاعت کر نیوالوں کا نام مومن نہیں رکھتا پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیونکر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پرخدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزار ہانشان دیکھکر جون مین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے اگر دیکھو حقیقۃ الوحی صفحه ۱۶۳ و ۱۶۴) حضرت مسیح موعود نے اس جواب کو اور بھی لیا کیا ہی کی بروقت طوال ایجنگ صرف اسی قد دیکھا جاتاہے اس سوال و جواب میں یہ خاص طور پر وہ کے نیک ابال کریں سائل نے یہ کہا کہ اب آپ لکھتے ہیں میرے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو اسپر حضرت اقدس نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں تو اپنے انکار سے لوگوں کو کافر نہیں کہتا تم مجھے پر کیوں الزام لگاتے ہو بلکہ معترض کی بات کو حضرت صاحب بنے ، انکر اس کی تشریح شروع کر دی پس جواب کی طرفہ ہی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت اقدس