کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 40 of 95

کلمۃ الفصل — Page 40

ریویو آن المجنز رحسین کا می سفیر سلطان روم میں آپ لکھتے ہیں کہ :۔کامی ۱۲۹ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے الگ ہیگا وہ کاٹا جا دیگا گیا پھر ایک حضرت مسیح موعود کا الہام ہے جو آپنے اشتہار معیار الاخیار مورخہ ہو سٹی منتشراع صفحہ پر درج کیا ہے اور وہ یہ ہے:۔” جو شخص تیری پیروی نہیں کریگا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہیگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنیوالا اور جہنمی ہے“ اختصار کے طور پر اتنے حوالے دیئے جاتے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود نے بیسیوں جگہ اس مضمون کو ادا کیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح قول کا بھی یہی عقیدہ تھا چنانچہ جب ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات کے یا نہیں ؟ و اپنے فرمایا اگرخدا کا کلام ہی ہے تو مرزا صاحب ے کانے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی دیکھو بدر نمبر ۲ جلد ۱۲ مورخه ۱۱- جولائی تا ۶ ) آب جبکہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیا اگر مسیح موعود کے منکر مسلمان ہیں تو یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ ایک اسلام ایک ابھی ہے جو انسان کو باوجود نیک اعمال کے نجات نہیں دلا سکتا ؟ کیا ایسا عقیدہ اسلام کو اسکی بنیاد سے ہلا دینے والا نہیں ہے ؟ یاد رہے کہ یہاں اعمال کا سوال نہیں بلکہ عقائد کا سوال ہے پس وہ جسکے عقائد میں مسیح موعود پر ایمان لانا د اخل نہیں بقول حضرت مسیح موعود جہنمی ہے اور نجات نہیں پا سکتا۔اب کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود کو ما نشاجره و ایمان نہیں ہے وہ خدارا اس بات پر غور کریں کہ جب مسیح موعود پر ایمان نے کے بغیر نجات نہیں ہے تو یہ کہنا کہاں تک امانت اور دیانت پر مبنی ہے کہ آپ کا مانا جزو ایمان نہیں۔حضرت صاحب تو تحریر فرماتے ہیں کہ : " دنیا میں ماموروں کے انکار جیسی کوئی شقاوت نہیں اور ان مقبولوں کو مان لینے جیسی کوئی سعادت نہیں" ردیکھو الندی صفحہ ۴ پھر اسی صفحہ میں ذرا آگے چلکہ لکھتے ہیں۔" اور فی حقیقت دو