کلمۃ الفصل — Page 35
۱۲۴ كلمة الفصل جلد ۱۴ باب دویم اس باب میں حضرت مسیح موعود کی بعض ان تحریروں کو متورطور پر لکھا جائیگا جن میں آپنے اپنی منکروں کو کافر کے نام سے پکارا ہے۔لیکن اس سے پیشتر ایک دھوکے کا ازالہ کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا جو بعض لوگوں کے لیے ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ میرے انکار سے کفر لازم نہیں آتا اور میرا منکر گواہمی مواخذہ کے نیچے ہوگا گر تا ہم وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں۔سو اس کے متعلق خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ انبیاء اپنے عقائد میں اس قدر محتاط ہوتے ہیں کہ وہ کوئی نئی بات نہیں کہتے جب تک اللہ تعالی کا صریح الہام اس کا حکم نہ دے مثال کے طور پر دیکھو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ مسیح ناصری آسمان پر ہے اور زمین پر نازل ہوگا اور قریباً بارہ برس اس عقیدہ کا اعلان کیا حالانکہ آپ کو الہام ہو چکا تھا کہ تو ہی آنے والا عینی ہے مگر آپ ایسے الہامات کی تاویل فرماتے رہے مگر بعد میں لکھا کہ وہ میسیج مر گیا ہے اور آنیوالا مسیح میں ہی ہوں۔ان دونوں عبارتوں میں ایک ظاہر بین شخص کی نظر میں تناقض ہے مگر ایک مومن خوب سمجھتا ہے کہ پہلا عقیدہ عام عقیدہ کی بنا پر کھا گیا تھا اور بد کا عقیدہ الہی الہام کی بنا پر ہے تناقض تو اس صورت میں ہوتا جب اپنے اجتہاد کی بنا پر دونوں عقائد کا اظہار کیا جاتا اس طرح فضیلت بر سیج ناصری کا عقیدہ ہے اسکے متعلق بھی حضرت مسیح موعود نے ایک وقت میں ایک خیال ظاہر کیا مگر دوسرے وقت میں اسکے خلاف کیا اسی طرح نبوت مسیح موعود کا عقیدہ ہے آپ اوائل میں اپنے آپ کو جزوی نبی اور محدث کے طور پر پیش کیا کرتے تھے حالا نکو برا امین کے وقت سے ہی آپ کو نبی اور رسول کے ناموں سے پکارا جا چکا تھا مگران الفاظ کی تا دیل فرماتے رہے لیکن جب مد میں ندا کی طرف سے آپ کو صریح طور نبی کا خطاب دیا گیا اور اس کے متعلق خدا کی وحی آپ پر بارش کی طرح نازل ہوں تو اُس نے آپ کی اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اس لیے آپنے اسکے خلاف کیا اور اپنے آپ کو کامل اور ظلی نبی کے طور پر پیش کیا پس ان باتوں کے ہوتے