کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 95

کلمۃ الفصل — Page 26

نمبر ۳ ریویو افت ایمیجز 110 صرف ایک ہی نکلا جسکو رسالت اور نبوت کا درجہ عطا کیا گیا حالانکہ کہا جاتا ہے کہ امت محمد یونسی کی امت سے شان میں ہزار ہا درجہ بڑھکر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ کو جو کتاب دی گئی تھی وہ کئی لحاظ سے ناقص تھی مثلا س سے بڑا نقص اس میں یہ تھا کہ اس میں دعاوی بھی عادی بھرے ہوئے تھے مگر دلائل نہ تھے اس لیئے ضرورت پیش آتی تھی کہ تو رات کے قیام کیلئے پے در پے نبی بھیجے جائیں تا وہ اپنے معجزات کی مدد سے اسکو خدا کا کلام ثابت کرتے رہیں جب ایک نبی مر جاتا اور اس کے معجزات لوگوں کے لیے قصے کہانیاں ہو جاتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ تو رات ایک مردہ جسم کی طرح رہ جاتی تھی کیونکہ اس کے اندر مجوز ات اور زندہ نشان اور بینات موجود نہیں تھے اس لیے فورا دوسرے نبی کو کھڑا کیا جاتا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ معجزات دکھائے اور لوگوں پر اپنی سچائی ظاہر کر رہے اور پھر اپنی وساطت سے تو رات پر لوگوں کو قائم کرے لیکن قرآن کے ہر ایک دعوئی کے ساتھ دلائل موجود ہیں اور اسلیئے قرآن کو ایسے نبیوں کی ضرورت نہیں جو لوگوں کو آکر پہلے کچھ معجزات دکھا ئیں اور پھر قرآن پر ایمان پیدا کر ائیں ہاں امت محمدیہ میں ایسے لوگ بے شک ہوتے رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے ان غلطیوں کے ذحد کر نیکے کام پر لگائے جاتے تھے جو عوام الناس کو قرآن کریم کے سمجھنے میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی ہی ہیں اور یا اُن کا یہ کام ہوتا تھا کہ لوگوں کو قرآن کریم کی طرف متوجہ کرتے رہیں اور انکو اعمال میں سست نہ ہونے دیں مگر قرآن کریم تو رات کی طرح مردہ کبھی نہیں ہوا تا اسے نبیوں کی ضرورت پیش آتی ہاں نبی کریم کی اُمت میں سے ایک نبی ضرور ہونا تھا اور وہ اس طرح کہ نبی کریم نے پیشگوئی کی تھی کہ میری امت پر ایک وقت آئیگا کہ انکے درمیان سے قرآن اٹھ جائیگا اور ایمان ثریا پر چلا جائیگا اب ایک شخص کو خدا کھڑا کہ کیا تو گم شده قرآن کو دوبارہ دنیا میں لائیگا اور امت محمدیہ کو پھر شریعت اسلام پر قائم کر یگا پس اب معاملہ صاف ہے چونکہ قرآن کو کسی نبی کے ذریعہ بیرونی دلائل کی ضرورت نہیں اس لیئے جب تک وہ دنیا میں موجود رہا کوئی نبی مبعوث کیا گیا لیکن جب قر آن حسب پیشگوئی بھر صادق دنیا سے مفقود ہوگیا تب ضرورت پیش آئی کہ ایک نبی کو بھیجک اس پر دوبارہ