کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 24 of 95

کلمۃ الفصل — Page 24

ریویو ان المجنز آف مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا پس اب جو ظلی نبی ہوتا ہے وہ نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں کیونکہ اسکی نبوت اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں بلکہ دہ محمد کی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مستقل نبوت اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خلقی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے یہ محض ایک نفس کا دھوکا ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں کیونکہ علی نبوت کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم مسلم کی اتباع میں استقدر فرق ہو جاوے کہ من تو شدم تو من شدی کے درجہ کو پالے ایسی صورت میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع کمالات کو کس کے رنگ میں اپنے اندر ترم پائیگا حتی کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھینگا کہ نبی کریم صلعم کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائیگی تب جا کر وہ ظلی نبی کہلائیگا پیش جب مغل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اسی پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ ناداں جو مسیح موعود کی علی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اسکے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو مام نبوتوں کی سرتان ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں کیونکہ میں تویہ دیکھتا ہوں کہ آپ انحضرت صلعم کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس طقی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے انکے لیے ہے ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھےجادیں جو نبی کریم مسلم میں رکھے گئے مکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت کسی کو کم مار شیخ موعود کو کوب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا علی نہیں کہلائے پس قلی نبوت نے بیچ موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اسقدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلولا کھڑا کیا۔اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عیسی کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ نبی کریم کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے بعد ہی بنایا جاتا۔دو اورسیلان کے لیے ضروری نہ تھا کہ انکونی کا خطاب تب دیا جاتا جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات سے پورا حصہ لے لیتے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ موسیٰ کے لیے بھی یہ ضروری نہ تھا