کلمۃ الفصل — Page 20
نمبر ۳ ریویو انت میجز 1-9 نصار فی کا ہے جنہوں نے آپ کا انکار کر کے اس بات پر بھی مہر لگادی کہ وہ مسیح ناصری پہ ایمان لانے کے دعوئی میں جھوٹے تھے اور اسکی تعلیم کو دلوں سے بھلا چکے تھے پس انہوں نے بھی قدیم کا کفر کیا اول نبی کریم کا ظاہری کفر اور دوسرے بیج ناصری اور اس سے پہلے کے تمام انبیاورم کا باطنی کفر۔اب یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ ایک رسول کے انکار سے باقی تمام رسولوں کا ان کار لازم آتا ہے۔ہاں ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک رسول کا ظاہری کفر باقی رسولوں کا بھی ظاہری کفر ہے کیونکہ ظاہری کفر زبانی انکار سے تعلق رکھتا ہے اس لیے بغیر کسی کی طرف سے زبانی انکار کے اُس پر ظاہری کفر کا فتویٰ لگانا جائز نہیں ایک شخص اگر کرتا ہے کہ میں نبی کریم کو مانتا ہوں تو پھر ہمارا کوئی حق نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ وہ آپ کا ظاہری کا فر ہے ہاں اگر وہ اللہ تعالٰی کے کسی اور رسول کے ظاہری کفر کو اپنے اوپر لیتا ہے تب ہم کہ سکتے ہیں کہ اس نے نبی کریم صلعم کا بھی باطنی کفرکیا کیونکہ ایک رسول کے ظاہری کفر سے دوسرے رسولوں کا باطنی کفر لازم آتا ہے جیسا کہ میں اور پر بتا آیا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ کا نفرق بین احد من رسلہ میں اللہ تعالٰی نے مومن کے لیے تمام رسولوں پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا ہے۔تا انسان کسی ایک رسول کا انکار کر کے اپنے پہلے ایمان کو بھی ضائع نہ کر دے۔ہاں یہ ہم میں کہتے کہ سارے کا ایک سے ہی ہیں۔لاریب ہندوؤں کی نسبت یہود ہمارے زیادہ قریب ہیں اسی طرح یہود کی نسبت نصاریٰ ہم سے قریب تر ہیں مگر کافر کا لفظ سب پر یکساں عایدہ ہوگا اور انہیں سے کوئی بھی مومن نہیں اسلا سکیگا کیونکہ مومن کے لیے سبب رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔پھر پہلے پارہ کے آخری کوع میں بھی للہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو حکم دیا ہے کہ کمولا نفرق بین احد منهم اور پھر تیسرے پارہ کے آخری رکوع میں اسی آیت کا اعادہ کیا ہے جس سے اس حکم کی تاکید مزید ثابت ہوتی ہے۔پھر چھٹے پارہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان الذین یکفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نومن ببعض وتكفر بعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلك سبيلا او كيك هم الكافرون حقا واعتدنا للكافرین عذابا مھینا۔یعنی وہ لوگ