کلمۃ الفصل — Page 10
نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز 99 جب تک اس کے اپنے چہرہ پر ہل دنیا کی نظر میں کوئی گرد نہ آجادے اور جب تک اس کی صفات میں سے کسی صفت کو دنیا کے لوگ عملی طور معطل نہ قرار دینے لگ جائیں اور جیساکہ میں اور پر بیان کر آیا ہوں زمانہ کا اثر اس بات کا مقتضی ہے کہ ایک عرصہ کے بعد لوگ نبی کی تعلیم کو بھلا دیں اور افتد کی طرف وہ باتیں منسوب کرنے لگ جادیں جن سے اسکی ذات والا صفات بالکل پاک ہو۔دیکھو موسی نے لوگوں کو توحید سکھائی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرہ کو لوگوں پر ظاہر کیا مگر ایک عرصہ کے بعد موسی کی سکھائی ہوئی توحید صرف لوگوں کی زبانوں پر رہ گئی اور اسد علی کا نورانی چہرہ گرم آلود ہو گیا تو ضرورت پیش آئی کہ سین ناصری کو کھڑا کر کے توحید کو از سر و قائم کیا جاوے لیکن کیا بیت کی سکھائی ہوئی توحید کا نقش لوگوں کے دلوں پر ایا جا کہ پھر کبھی محو ہ ہوا یہ نہیں بلکہ چھ سو سال کے بعد دنیا کا وہی حال ہو گیا جو سب سے پہلے تھا بلکہ اس سے بھی بدتر ی س م م صلی الہ علیہ سلم کو کھڑا کیا گیا تا دو صدیوں کی میل کو خدا کے چہرہ سے دھوڈالے اور اسکی صفات کا ملہ کا لوگوں کے دلوں پر نئے سرے سے نقش پیدا کرے تاکہ وہ کئے توحید سے سرشار ہوں اور دنیائے فانی سے اپنے دل چھوڑ کر اس ذات پاک سے لولگائیں جس کا دامن تمام گندوں سے یک قلم ر ہائی بخشتا ہے غرضیکہ ہرایک نبی کا ہی کام ہوا ہے کہ دنیا میں کام اورحقیقی توحید کو قائم کرے اس سے وہ جو کسی نبی کی مخالفت کرتا ہے اس کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ توحید کی مخالفت کرتا ہے یہی وجہ ہے کہاللہ تعالی نبیوں کے انکار کو خوداپنے اسکار کے طورپر پیش کیا ہے جیسا کہ کفار کی صیفیت میں آیا ہے پریدن از قیف توابین الله و رساله یعنی وہ اللہ اور اسکے رسولوں میں تفریق کرنا چاہے ہیں مطلب ی کہ انکا یہ خیال ہوتا ہے کہ سولوں پر ایمان لانے کے بغیر اسان توحید پر قائم ہوسکتا ہے حلانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اب یہ دونوں اصول با لکل صاف ہیں اول یہ کہ ایک مامور من اللہ اسکا حقیقت میں بے اروں کا انکار ہوتا ہےکیونکہ وہ دنیامیں ایک ہی رنگ پر آتے ہیں اور ایک ہی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کا وہی انکار کرتا ہے جوگذشتہ مامورین پر ایمان لانے کے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے اور یہ اصول میرے اپنے دماغ کا اختراع نہیں ہو بلکہ اللہ تعالٰی نے خود اسکو قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے جیب کہ فوج کے منکرین کے متعلق آتا ہے کہ کذمت قوم نوح