کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 95

کلمۃ الفصل — Page 86

نمبر ۴ ریویو ان المجنز 160 مخضوب علیہم بنجارے لیکن اسکو مائنا ایمانیات میں ہے نہ ہو۔پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص پکار پکار کر کے ے ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ د 4 اس سے بہتر غلام احمد ہے۔لیکن اری کا شکر و کافر ہو اور غلام احمد کا شکا ر نہ ہوا اور پر ہم کس طرح ان ہیں کہ ایک شخص کو نہ ایمان بار بار اپنے الہام میں رسول اور نبی کہ کر پکارے لیکن وہ لا نفرق بين احد من ساله کے لفظ رسل میں شامل ہو۔اور اسکا شکر و کیک ھم الکافرون حق سے باہر ہو۔یہ تمام باتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ہم مندر کی وجہ سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ جو کچھ لکھا ہے اسکو درست اور صحیح سمجھ کر لکھا ہے۔اگر کوئی صاحبان خیالات بلکہ اور کو قرآن شریف احادیث صحو اور کتب حضرت مسیح موعود سے غلط ثابت کر دیں تو ہم بفضلہ تعالی رجوع کرنے کو ہر وقمت حاضر ہیں کیونکہ ہمیں کوئی ضد نہیں۔وأخر د عوامنا ان الحمد لله رب العالمين اصل مضمون اسی جگہ ختم ہوتا ہے لیکن میں مناسب بجھتا ہوں کہ مضمون ختم کرنے سے پہلے جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے رسالہ دور بارہ مسلہ کفر و اسلام پر الگ ریویو کیا جاتا تا شاید کسی سعید روح کے لیے ہدایت کا موجب ہو۔وما توفیقی الا بالله - جناب الوی محمد علیا کے سال کود اسم پر ایک سرانی جناب مولوی محمد علی صاحب اپنے سال کے شروع میں لکھتے ہیں کہ مسلہ کفر و اسلام کے متعلق ظالم لوگوں کو اس لیے دھوکا لگا ہے کہ کفر اور اسلام کے معنوں کو ایک تنگ دائرہ میں محدود کردیا گیا ہے حالانکہ یہ الفاظ اپنے اندر وسعت رکھتے ہیں۔اور اسکے آگے چلکہ لکھتے ہیں کہ اسلام ان لینے کا نام ہے اور کفر انکار کر دینے کا اسلام کی بڑی اور آخری حد بندی توحید آئی ہے ہیں ؟ شخص توحید الہی کا قائل ہوتا ہے وہ اسلام میں آجاتا ہے۔(دیکھو رسالہ صفورس ) سو اس کے جواب میں گزارش ہے کہ بیشک یہ درست ہے کہ کفر اور اسلام کے الفاظ کے معانی میں وسعت ہے مگر اس وسعت کی بھی آخر کوئی حد ہونی چاہیے۔مولوی صاحب سنئے