کلمۃ الفصل — Page 43
۱۳۲ كالفصل جل یا خواب میں اگر وہ امام الزمان کے سلسلہ میں داخلی نہیں ہے تو اس کا خاتمہ خطر ناک ہے ؟ پھر فتح اسلام صفحہ ۲۰ پر لکھتے ہیں کہ۔وہ اس نے دیعنی خدا نے ، اس سلسلہ کے قائم کر نیکے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفان ضلالت برپا ہے تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کہ جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائیں گا اور جو انکار میں رہیگا اکرلیے موت در پیش ہے " پھر اپنی کتاب تحفہ گولڑا یہ صفحہ ۶ہ میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ : دیکھودہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریے، کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلا گیا۔اور یہ سلسا مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مرادی عسل ہوگا یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔یہ اس خدا کی وحی ہے جسکے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔پھر جب حضرت مسیح موعود نے دسمبر شام کے جلسہ میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں سوائے اسکے کوئی فرق نہیں کروہ لوگ وفات مسیح کے تایا نہیں اور یہ لوگ وفات مسیح کے قائل ہیں تو اس پر اپنے ۲۶- دسمبر تنشد ع کو ایک مبسوط تقریر فرمائی جس میں آپنے کھو کہ بتایا کہ یا احمدیوں اور احمدیوں میں کیا فرق ہے۔تقریر اپنے اندر ایک خاص رنگ رکھتی ہے اس لیے ہر ایک احمدی کو ایسے پڑھنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان کیا جو احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان ما بہ الامتیاز کے طور پر ہیں۔آپنے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا در فرم اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن سے خدا تعالٰی ناراض ہے اور جو اسلامی رنگ کے مخالف ہیں۔اسواسطے اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا جب تک وہ غلط عقاید کو چھوڑ کر راہ راست پر نہ آجائیں اور اس مطلہ کے لیے خدا تعالٰی نے مجھے مامور کیا ہے ، اب مسیح موعود کے اس فیصلہ کے بعد ہم کسی ایسے شخص کی کہ بات کو پریشہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتے جو احمدی کہلا کر غیر احمدیوں کو مسلمان جانتا ہے۔ہم مجبور ہیں ہم نے مسیح موعود کو مصلحت وقت کے لیے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اسے واقعی حکم سمجھ کرانا ہے اور اسکی ہر ایک بات کو سچا پایا ہے۔پس جب مسیح موعود کہتا ہے کہ اس کے