کلمۃ الفصل — Page 95
۱۸۴ کا لفيل جلدم وہ باب پڑھ لیا جاوے انشاءاللہ ساری تعینات گھل جائیگی۔پھر میں کھتا ہوں کہ اگر بفرض محان یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت خلیفہ اقول " کا یہی خیال تھا جو مولوی محمد معنی صاحب نے ظاہر کیا ہے تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ حضرت خلیفہ اول نے مامور نہیں تھے کہ عقید میں ان کا فیصلہ ہمارے لیے محبت ہو ہمارے لیے اگر محمد رسول الله کے بعد کسی کا فیصلہ محبت ہو سکتا ہے تو وہ مسیح موعود ہی ہے کیونکہ وہ خدا کا ایک رسول ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو حکم قرار دیا ہے۔قندیرو میں آخر میں یہ بتا دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ مولوی محمد علی صا حب نے جو خیالات اپنے اس رسالہ میں ظاہر کیئے ہیں وہ بعینہ وہی خیالات ہیں جو عبد الحکیم خاں کے لیے ارتداد کا باعث ہوئے۔لیکن افسوس کہ مولوی صاحب موصوف نے اس نظیر ہے فائدہ نہ اٹھایا۔اللہ تعالیٰ اپنا رحم کرے خاكسار میرزا بشیر احمد - فروری شاله مطابق ۲۱ بیع الاول