کلمۃ الفصل — Page 94
نمبر ۲ رولو ات المجنز ما نا ضروری ہی نہیں۔بعض لوگ یا وجود علم کا دعوی کرنے کے پھر ایسا بے معنی فقرہ بول دیتے ہیں۔کہ اگر مسیح موعود کو مانا بھی مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے تو پھر محمد رسول اللہ اور مسیح موعود میں سے اسلام کا نبی کو نسا ہوا ؟ نادان اتنا نہیں سوچتے کہ اسلام کا نبی نہ صرف محمد رسول الله ہے اور مسیح موعود بلکہ قرآن شریف کی صریح تعلیم کے رو سے آدم علیہ السلام سے لے کر مسیح موعود تک جتنے اللہ تعالیٰ کے نبی آتے ہیں سب اسلام کے نبی ہیں۔ان میں سے کسی ایک کا انکار کر کے آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا جیسا کہ آیت او ليك هم الكافرون حق سے ظاہر ہے۔فتدبروا پھر اپنے رسالہ کے صفحہ چلنے پر مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:۔در مسیح موعود کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے مگر وہ دائرہ اسلام سے اسوقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک لا اله الا اللہ کا انکار نہ کرے اگر مولوی صاحب موصوف کا واقعی یہی اعتقاد ہے تو پھر ان کے نزدیک یہ فقرہ بھی درست ہونا چاہیے کہ :- مربی کریم کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے مگر وہ دائرہ اسلام سے اسوقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک کہ لا اله الا اللہ کا انکار نہ کرے کیا تف ہے ایسے اسلام پر جس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں وہ خبیث رو میں بھی شامل ہیں جن کا کام ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو دن راست گالیاں نکا بنتا ہے۔اور جو قرآن کو انسان کا کلام اور محمد کی مغتربات خیال کرتے ہیں نعوذ باللہ من ذریت مولوی صا حب نے اپنے رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے بعض حوالجات بھی نقل کیئے ہیں لیکن میں چونکہ ان کے متعلق باب دوم میں کافی بحث کر آیا ہوں اس لیے اس جگہ ان کے متعلق لکھنا توضیح وقت کے سوا کچھ نہیں۔پھر مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے آخر میں اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت خلیفہ اول کفر و اسلام کے مسئلہ میں ان دیعنی مولوی محمد علی صاحب ) کے ہم عقیدہ تھے۔مجھے ضرورت نہیں کہ اس بات کے متعلق کچھ بحث کروں کیوں کہ میں باب پنجم میں حضرت خلیفہ اول کے عقیدہ کے متعلق کافی سے زیادہ لکھ آیا ہوں