کلمۃ الفصل — Page 92
نمبر ۴ ریویو است میجر ریویوان IAI وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے ؟ سوا سکے تعلق مینے بفضلہ تعالٰی قرآن کریم سے اور حدیث سر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اسلام میں آنے کے لیے صرف توحید کا اقرار کوئی چیز نہیں بلکہ ایوان بالرسل سخت ضروری ہے۔نیز میں یہ بھی ثابت کر آیا ہوں کہ جس شخص پر شریعت اسلام کی اصطلاح میں کافر کا لفظ عا یہ ہو وہ کسی لحاظ سے بھی مومن نہیں کہلا سکتا کیونکہ شریعت کی رو سے کفر کے ا معنی ہیں۔ہیں کہ ایمان کی شرائط میں سے کسی کا انکار کر دیا جاوے۔باقی رہا کردون کفر کا مسئلہ جس پر مولوی محمد علیہا نے بہت درد یا با اوراس کا کرارا ایک ایک کرکے دور میں ہم ان یا انکا نہیں کرتے بلکہ اسکے قائل ہیں ہاں ہم مولوی صاحب کی طرح اسلام کی حد کے اندر اسکے قابل نہیں بلکہ ہمار ایران ہے کہ کفر دون کفر حدود اسلام کے باہر کے لیے ہے یعنی اسلام کے اندر کوئی کفر کے دریچے نہیں بلکہ دائرہ اسلام میں صرف اسلام ہی اسلام ہے ہاں اسلام کی حد کے اندر اسلام دون اسلام اور ایمان درون ایمان ضرور ہے اسی طرح کفر کی حدود میں کفر دون کفر ہے یعنی جو لوگ اسلام سے باہر ہیں ان کے کفر میں تفاوت ہے۔مثلاً دہر یہ لوگ ہم سے بہت دُور ہیں کیونکہ رسول تو بجائے خود رہے وہ خدا کی ہستی کے بھی قائل نہیں لیکن ان کی نسبت ہندو ہم سے قریب ہیں کیونکہ وہ توحید کو مانتے ہیں۔پھر ہندوؤں کی نسبت یہود قریب تر ہیں کیونکہ وہ خدا کو بھی مانتے ہیں اور اسکے بہت سے رسولوں پر بھی ایمان لاتے ہیں۔پھر بہبود کی نسبت نصاری ہمارے اور زیادہ قریب ہیں کیونکہ انکے ایمان میں ایک رسول کی زیادتی ہو گئی ہے اور پھر نصاری کی نسبت غیر احمدی مسلمان ہم سے اور بھی زیادہ قریب ہیں کیونکہ وہ سوائے مسیح موعود کے اللہ تعالی کے باقی تمام رسولوں پر ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں۔یہ ہیں کفر د دن کفر کے اصلی معنی نہ کہ یہ کہ آپ اسلام کے اندر ہی کفر کے درجے شمار کرنے لگ جائیں۔اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرے کہ جب تم نے خود اسلام کے لیے صرف اسقدر کافی سمجھا ہے کہ اقرار کیا جاوے کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ اور اس کے ثبوت میں تم نے حدیث سے اسلام کی تعریف پیش کی ہے تو اب تم کس طرح لکھتے ہو کہ جو مسیح موعود کونہ مانے وہ بھی مسلمان نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ محمد رسول الہ میں باقی تمام رسول بھی شامل ہیں جیسا کہ ا اله الا اللہ میں محمد رسول الله کو شامل سمجھا جاتا ہے۔کلمہ شریف میں محمد رسول اللہ کا نام اس لیئے رکھا گیا ہے کہ وہ نبیوں کے