کلمۃ الفصل — Page 91
لفصل جلد ۱۳ میں ایک طوفان عظیم برپا ہو جائیگا۔پس قرآن کی کسی آیت یا حدیث کے کسی فقرے کے معنی ہمیشہ وہ رنے چاہئیں جو اسلام کی کھلی کھلی تعلیم کے خلاف نہ ہوں جب حکیم خاں کے ارتداد کا ہی باعث ہوا کہ اس نے قرآن کریم کی بعض آیات سے یہ نتیجہ نکالنا چاہا کہ نعوذ بالش نبی کریم پر ایمان لانے کے بغیر بھی نجات ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے عبد الحکیم کے اعتراضات کا جواب حقیقۃ الوحی میں مفصل لکھا ہے اور وہاں بتایا ہے کہ ایمان بالرسل کے بغیر ایمان باللہ کوئی چیز نہیں دیکھو صفحہ ۱۰۸ تا ۱۴۷ ) آپ انہی صفحات میں نجات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ در جو لوگ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں کہ بغیر اسکے کہ کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائر صرف توحید کے اقرار سے اسکی نجات ہو جائیگی ایسے لوگ پوشیدہ مرتد ہیں اور درحقیقت وہ اسلام کے شمن ہیں اور اپنے لیے ارتداد کی ایک راہ نکالتے ہیں (دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ 119) پھر اسی صفحہ میں کسی اور جگہ لکھتے ہیں کہ " ایسا شخص کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کو واحد لا شریک جانتا ہو اور آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کو مانتا ہوہ نجات پا جائیگا یقیناً سمجھو کہ اس کا دل مجزوم ہے اور وہ اندھا ہے اور اسکو تو عید کی کچھ بھی خبرنہیں کہ کیا چیز ہے اور ایسی توحید کے اقرار میں شیطان اس سے بہتر ہے یہ ہے حضرت مسیح موعود کا عقیدہ نجات کے متعلق اور پڑھنے کے بعد بھی اگر کوئی احمدی لکھے کہ نجات پانے کے لیے صرف توحید کافی ہے تو وہ اپنا انجام آپ سوچ لے ت ایک صاف بات ہے کہ خدا کو ایک مان لینا کوئی چیز نہیں ہے بلکہ خدا کو اسکی تمام صفات حسنہ کے ساتھ متصف ماننا از بس ضروری ہے ورنہ اس طرح تو ایک سورج پرست بھی خدا کا قائل ہے کیونکہ اسکے خیال میں سورج خدا ہے اور وہ موحد بھی ضرور ہے کیونکہ وہ خدا کے ایک ہونے کا قائل ہے یہ اور بات ہے کہ اس کا خدا وہ خدا نہیں جو اسلام کا خدا ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایسے خدا کو ماننا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور ہم ایسے شخص کو حقیقی طور پر موقد نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ اس باطل عقیدہ سے تائب ہو کر اس خدا کا پرستار نہ بنے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم اور پھر آپکے بعدمسیح موعود کی رسالت کی وساطت کے بغیر نظر نہیں آسکتا ، فتد بردا اب میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور وہ یہ کہ کیا شخص توحید کا قائل ہوتا ہے