کلمۃ الفصل — Page 9
94 كلمة الفصل جلد مطابق محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نود باشہ ایک جھوٹا مدعی رسالت ہے کبھی بھی حقیقی طور پر عینی اور موسیٰ علیہم السلام کی رسالت کو سچا نہیں جان سکتا خواہ وہ زبان سے ہزار دعوی کرے اور بخدا اگر وہ عیسی اور موسی کا زمانہ ہا تا تو ان سے بھی وہی سلوک کرتا جو اس نے نبی عربی سے کیا کیونکہ اس کا دل سعادت کے مادہ سے خالی ہو چکا ہے اور اسکی آنکھو نہیں نور ایمان باقی نہیں رہا وہ اندھی ہیں اللہ تعالٰی کے نور کو نہیں دیکھ سکتیں خواہ وہ نور موسی اور معینی کی شکل میں نازل ہو اور واہ میر مسلم کے وجود باجود میں اسکا ظہور ہوں۔پس یہی یہی ہے کہ اللہ تعالٰی کے ایک امور کا انکار حقیقت میں سب ما موروں کا انکار ہے کیونکہ ایل ملخص جب ایک مامور من اللہ کا انکار کرتا ہے تو اسکی روح زبان حال سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ میں ازلی شقی ہوں مجھ میں نور نبوت کا حصہ نہیں۔یہی عقیدہ میرا ایمان ہاسہ کے متعلق ہے۔صرف خدا کی ذات کا قائل ہو جانا اور اس پر ایمان لے آنا انسان کو نجات نہیں دلا سکتا کیونکہ نجات کے لیئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی کو اسکے تمام صفات کے ساتھ متصف مانا جادے : یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کا قائل ہو لیکن اُس نے اپنے خدا کو ایسی صفات دے رکھی ہوں جن سے اسکی ذات پاک پر کوئی دھیہ آمے یا جو اسکے نورانی چہرہ کو لوگوں کی نظروں سے چھپانے والی ہوں مثلاً ایسا ہو سکتا ہو کہ ایک شخص خدا کو واحد لاشریک جانے لیکن اسکے خیال میں سورج ہی خدا ہو یا اس کا ایمان ہو کہ دو میں سب انادی میں خدا کوئی روح پیدا نہیں کر سکتا یا اسکا ایمان ہو کہ خدا ک کی فضل کے ساتھ سنجات نہیں دے سکتا یا اسکا یہ ایمان ہو کہ خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں تو کار ریب ایسا شخص خدا کی ذات کا تو قاتل ضرور ہے مگر اسکو اسکی تمام صفات کے ساتھ متصف نہیں انتا اس لیے یہ کہنا جائز ہوگا کہ ایسے شخص کا اللہ پر ایمان نہیں ہے کیونکہ اللہ نام ہو اس فرات کا جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام عیوب سے پاک ہے اور چونکہ ان لوگوں کا جواشد تعالی کی طرف سے مامور ہوتے ہیں سب سے بڑا فرض اور کام اللہ تعالی کے روشن چہرہ کو دنیا پر ظاہر کرنا ہوتا ہے اس لیے ہم کہ سکتےہیں کہ جو شخص کسی مامورین اللہ کا انکار کرتا ہے اس نے اللہ تعالی کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا کیونکہ الہ تعالی کسی مرسل کو مبعوث نہیں فرماتا