کلمۃ الفصل — Page 77
144 کا لفصل جلد لاف اسلامی با این مجھ کو قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں باقی یہ ضروری نہیں کہ حضرت مسیح موعود ان تمام دلیلوں کو جمع کرتے جن سے غیر احمدیوں کے کفر کا پتہ لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کیا کہ تیر اینکر اسلام سے خارج ہے دیکھو خط بطرف عبدالعلیم خان اور چونکہ یہ ایک دعوی تھا جسکی دلیل ہونا چاہتے اسلئے حضرت مسیح موعود نے اس کے ثبوت میں دلیلیں دیں اور بہت دیں۔ہاں یہ ضروری نہیں کہ حضرت مسیح موعود تمام دلائل کو جمع کر دیتے ہم نبی کریم کے سچا ہونے کی بیشمار ایسی دلیلیں دیتے ہیں جو نبی کریم نے نہیں ہیں بلکہ خود حضرت مسیح موعود نے نبی کریم کی صداقت ثابت کر نیکے لیئے کئی ایسی دلیلوں کو پیش کیا ہے جن کو نبی کریم نے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا تو کیا اس بات سے مسیح موعود کے وہ حب دلائل نعوذ باللہ باطل ہو جائینگے۔اصل میں بات یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ مدعی اپنے دعوی کی صداقت میں دنیا کے سارے دلائل جمع کر دے بلکہ اسکے لیے صرف اتنا ضروری ہے کہ اپنا دعوئی لوگوں کی نظروں میں سچا کر دکھائے۔اگر کوئی دوسرا شخص اُسی بات کے ثبوت میں کوئی ایسی دلیل پیش کرتا ہے جو مدعی نے پیش نہیں کی تو اس سے اس دلیل کی کمزوری ثابت نہیں ہوتی بلکہ کسی دلیل کی صداقت کا معیار عقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو کم و بیش دے رکھی ہے۔پس اپ یہ کہنا کہ چونکہ او با هم الکافرون حقاد الی دلیل حضرت مسیح موعود نے پیش نہیں کی اس لیئے ہم اسکو نہیں مانتے سخت درجہ کا ظلم ہے۔کیا ہم وفات مسیح کا مسئلہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسی دلیل نہیں دیتے جو حضرت مسیح موعود نے لکھی ہو۔کیا ہم مسیح موعود کے دعویٰ میمیت کی صداقت میں کسی ایسی دلیل کو پیش نہیں کرتے بسکو خود مسیح موعود نے بیان کیا ہو ؟ پس جب ان عظیم الشان امور میں ہم قابل، اعتراض نہیں شہر تے تو کیا وجہ ہ کفر و اسلام کے مسئلہ میں ہم کو اسی بات کے بینی اعتراض کا نشان بنایا جاوے۔اب میں وہ بات بھی لکھ دیتا ہوں جسکی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے اُولیک هم الكافرون حقا والی آیت کو پیش نہیں کیا۔سو واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ مامور ہو کر آتے ہیں انکا یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعادی کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ