کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 95

کلمۃ الفصل — Page 73

الفصل جلد ۱۴ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا جنہوں نے میرے آنے کی پیشگوئی کی اسی طرح وہ عبارت بھی جیر معترض کو دھوکا لگا ہے در حقیقت اسی مطلب کے لیے ہے چنانچہ اصل عبارت کو دیکھنے سے سب معاملہ صاف ہو جائیں گا۔حضرت مسیح موجود تحریر فرماتے ہیں کہ :۔اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو انکو چاہیے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شایع کردیں کہ یہ سب کا فر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں انکو مسلمان سمجھ لونگا۔بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کھلے کھلے پھر رات کے مذب نہ ہوں ، ( دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵) یہ ہیں حضرت مسیح موعود کے الفاظ جو ہمارے سامنے بار بار پیش کیئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس تحریر میں آپنے اس بات کی امکان ضرور رکھی ہے کہ ایک شخص آپ کے انکار کر کے بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔گر معترض نے غور نہیں کیا کہ یہ بات تعلیق بالمحال کے طور پر ہے جس طرح قرآن میں بھی آتا ہے قل ان كان الله حسن ولدا فانا اول العابدین معنی کہو کہ اگر کوئی رحمن کا بیٹا ہے تو میں اس کا اسے پہلا عبادت کر نیوالا ہوں کیا اس تحریر کو پیش کر کے ہم سے کوئی یہ کہ سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے امکان تو اسبات کا ضرور رکھا ہے کہ رحمن کا لڑکا ہو سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں کیونکہ یہاں تو یہ اشارہ کیا گیا۔ہے کہ نہ خدا کا بیٹا ثابت ہو سکیں گا اور نہ ہمیں اسکی عبادت کرونگا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے تعلیق بالمحال کے طور پر اس بات کو پیش کیا ہے کہ اگر کوئی شخص غیر احمدیوں میں سے ہمارے مکفر مولویوں کے نام لیکر اشتہار کے ذریعہ ان کے کافر ہونیکا علان کرے اور مسیح موعود کو سچا مسلمان جانے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کو بھی سچا جانتا ہو جو اس نے مسیح موعود کے ہاتھ پر ظاہر کیئے میں اور یہ سب کچھ نفاق سے نہ ہو تب ہم ایسے شخص کو مومن مان لیں گے۔اب یہ ظاہر بات ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود کو واقعی سچا مسلمان جانتا ہے اور آپکے مکذبین کو کافر سمجھتا ہے اور آپ کے الہامات اور نشانات کو بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے مانتا ہے اور پھر آپ کی بیعت نہیں