کلمۃ الفصل — Page 69
IDA کا لفصل جلد ۱۳ معترض کا یہ خیال ہے کہ کلمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کا اسم مبارک اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں تبھی تو یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ کے بعد کوئی اور نبی ہے تو اس کا کلمہ بناؤ نادان آنا نہیں سوچتا کہ محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لیے رکھا گیا۔ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے ہاں حضرت مسیح موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپنے پہلے گزرے ہوئے انبیا ء شامل تھے مگر مسیح موجود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی اندا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ با سد لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہی کلمہ ہے صرفت فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے مھمد رسول اصد کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور ہیں۔علاوہ اسکے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریعت میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔سے تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ سے موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجود کا نیز من فرق بيني وبين المصطفة فما عرفنی و ماری اور یہ اس لیئے ہے۔کہ اللہ تعالی کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دقعہ اور خاتم النبین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔اس لیئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت لیئے نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آیا تو ضرورت پیش آتی۔فتدبر دا چھٹا اعتراض یہ ہے کہ لا نفرق بین احد من سرسلہ کے لفظ ر سال کے مفہوم میں صرف وہی رسول شامل ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گذر چکے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ سورۃ بقر کے پہلے رکوع میں منتقی کی شان میں