کلمۃ الفصل — Page 68
نمبر ہ یوید آن به همجنز 106 کانا ہے۔پس ہم کو چاہیے کرکسی کسی طرح پر دو اقوال کو تطبیق دینے کی کوشش کریں کنی کے ہمارے لیے دونوں واجب القبول ہیں۔اب اگر ہم غور کریں تو بات مشکل نہیں رہتی بلکہ بہت جلد حل ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ چونکہ شرعی نبی اپنے ساتھ احکام لاتا ہے اسلئے اس کا انکار براہ راست انسان کو کافر بنا دیتا ہے مگر غیر شرعی نبی کے معاملہ میں یہ بات نہیں سینی وہ اپنے ساتھ کوئی نئے احکام نہیں لاتا س لیے اس کا انکار براہ راست انسان کو کافر نہیں بناتا بلکہ چونکہ ایسے نبی کا انکار حقیقت میں اس نبی کا انکار ہوتا ہے جس کی شریعت پر وہ لوگوں کو قائیم کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اس لیئے اسکے منکروں پر کفر کا فتوئی اسی واسطہ سے ایک ہوتا ہے یعنی غیر شرعی نبی کا انکار انسان کو بلا واسطہ کا فرنہیں بناتا بلکہ بالواسطہ کا فر بناتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ حقیقت میں خود محمد رکواللہ کو نہیں مانتا کے لیے میں مبعوث کیا گیا ہوں پس مسیح موعود نے بھی سچ لکھا ہو کہ صرف شرعی نبی کا انکار کفر ہے اور قرآن کریم بھی سچ کہتا ہے کہ ہر ایک نبی کا انکار کفر ہے۔مسیح موعود کا کلام تو اس طرح سچا ہے کہ وہ جسکے انکار سے بلاواسطہ انسان کا فر ہو جاتا ہو صرف شرعی بنی ہی ہے کیونکہ احکام صرف ایسے نبی کو ہی ملتے ہیں۔اور قرآن کریم کا فرمان اس طرح سے ہے کہ غیر شرعی نبی کا انکار خواہ بالواسطہ کفر ہو مگر آخر ہے تو کفر ہی۔پس اس لحاظ سو! کہ نتیجہ ہر ایک نبی کے انکار کا خواہ وہ شرعی ہو یا غیر شرعی کفر ہی ہوتا ہے قرآن کریم کا فتوئی بھی حق ہو آپس مسیح موعود کا منکر کا فر تو ضرور ہو اگر ہاں آپ کفر کا فتوی مسیح موعود کی طرف تھے نہیں لگایا جائیگا بلکہ خود دربار محمدی سے یہ فرمان جاری ہوگا کیونکہ مسیح موعود اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں بلکہ صرف محمد رسول اللہ کا کامل ظل ہونے کی وجہ سے قائم ہے۔فقد بروا پانچواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کر یم کے بعد مرزا صاحب بھی ایسے نہیں ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان کسی حق کا انکار کرتا ہے تو اسکی مقتل ماری جاتی ہے اور وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے کہ ایک بچہ بھی انہیں شنکر ہے۔اب کیسی بیوقوفی کی بات ہے کہ مرزا صاحب کا ماننا اگر ضروری ہے تو ان کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔غالباً