کلمۃ الفصل — Page 66
نمبر ام ریویو ان المجنز به کلمہ گو ہونے کے کافر ہو جائیگا جب زید کو اس کا کلمہ گو ہونا کافر ہو جانے سے بچا نہیں سکتا تو پھر یہ کہنا کہ کلمہ گو کسی صورت میں بھی کافر نہیں ہو سکتا کیسا بیہودہ اور بے معنی مسئلہ ہے میں میں بات یہ ہے کہ کار یعنی لا اله الا الله محمد رسول اللہ ایک اصول کے طور پر ہے اس میں باقی تمام رسول بھی شامل ہیں۔محمد رسول اللہ کا نام اس واسطے کلمہ میں رکھا گیا ہے کہ وہ تمام رسولوں کے سرتاج ہیں پس وہ جو آپ کے کسی ماتحت افسر کا انکار کرتا ہے وہ حقیقت میں میں آپ کا انکار کرتا ہے اس لیئے باوجود زبانی دعوی کرنے کے اسکے لیے ہی کہا جائیگا کہ وہ محمد رسول اللہ کو نہیں مانتا۔حدیث میں آتا ہے من قال لا الله الا الله دخل الجنة یعنی جس نے کہا کہ احد کے سوا کوئی خدا نہیں وہ جنت میں جائیگا۔اب اس فقرہ کے ظاہرہ معنی لیے جاویں تو نعوذ باللہ ماننا پڑیگا کہ نبی کریم پر ایمان لانا بھی ضروری نہیں ہے صرف اللہ کو ایک مانا نجات کے لیے کافی ہے حالانکہ یہ قرآن کی صریح تعلیم کے خلاف ہے، اسلئے تمام علمائے امت نے لا اله الا اللہ میں محمد رسول اللہ کو داخل سمجھا ہے پر جب الا اله الا اللہ میں محمد رسول اللہ شامل ہو سکتا ہے تو کیوں محمد رسول اللہ میں باقی سارے رسول شامل نہیں ہو سکتے۔یہ مضمون کسی قدر لمبا بیان چاہتا ہے گر بخوف طوالت اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب تو صرف بطور اسلام کے ایک خاد کرے آئے تھے اور ان کا کام صرف نبی کریم کا منوانا تھا اس لیے مرزا صاحب کی ذات پر ایمان لانا ضروری نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی کریم کو منوانے آمر تھے مگریہ بھی تو درست ہے کہ نبی کریم خدا کو منوانے آئے تھے اب نبی کریم کے ماننے سے بھی چھٹی ہوئی صرف خدا کو لیے بیٹھے رہو۔نادان اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جس طرح نبی کریم نے خدا کو منوانے کے لیے اپنے آپ کو منوایا اور اس بات کو ضروری قرار دیا کہ آپ پر ایمان لایا جاوے یہی حال مسیح موعود کا ہے وہ بے شک نبی کریم کو منوانے کے لیے مبعوث کیا گیا۔گر ساتھ ہی سپر ایمان لانا بھی ضروری ہو گیا۔کیا معترض کو ہم یہ نہیں کر سکتے کہ جب نبی کریم