کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 95

کلمۃ الفصل — Page 62

نمبرام ریلویو آپ پلیجز 101 تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنیوالے کا نام نبی اللہ رکھا ہے پس نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب انکے ماننے اور انکار کا مسئلہ صاف ہے۔عربی بولی میں گفت انکار ہی کو کہتے ہیں۔ایک شخص اسلام کو مانتا ہے۔اس حصہ میں اسکو اپنا قریبی سمجھ لوجیں شمع پر یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو اسی طرح یہ مرزا صاحب کا انکار کر کے ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں۔(دیکھو بدر نمبر جلد ۱۲ مورخہ ۴۔جولائی ۴۱۱۳) پھر الفضل نمبر ٠ ه ج مورخہ ۲۷ - متى شراء میں حضرت خلیفہ المسیح اول کا ایک فتونی چھپا ہے وہ بھی مسئلہ کفر کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں " سینکڑوں امور کفر کے ایسے ہیں کہ اگران میں سے ایک کا بھی معتقد ہو تو ا و سوسکا ہے کجا ۹۹ - مثلاً کوئی کے اللہ کا مانا لغو ہے یا یہ کہ رسولوں کا ، اعتقاد بیہودہ ہے تو کیا آپ اسکے کفر میں تردد ہو گا۔اسرائیلی مسیح کے وقت مسیح کے منکر ہو اللہ تعالٰی کو مانتے تھے توریت پر ان کا ایمان تھا سب رسولوں کو مانتے تھے سوائے حضرت مسیح کے کیا وہ کیا فر تھے یا نہ تھے ؟ ہمارے پاک سردار سعید و مولا خاتم الرسل خاتم الانبيا وشفيع يوم الجو، جو رسول شده صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہوا اور نصاری اللہ کو مانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کتابوں فرشتوں کو مانتے ہیں کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں ؟ کافر ہیں ! اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیج رسول کا منکر کیوں کافر نہیں اگر اسرائیلی میسج موسیٰ کا خاتم الخلفا یا خلیفہ یا متبع ایسا ہے کہ اس کا منکر کا فر ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الخلف یا خلیفہ یا متبع کیوں ایسا نہیں کہ اسکا منکر کا فر ہو۔اگر وہ مسیح ایسا تھا کہ اس کا منکر کا فر ہے۔و یہ میسج بھی کسی طرح کم نہیں یہ محمدی سی او محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین اور اس کا غلام ہے کیا پھر حضرت خلیفہ اول کا ایک خط ہے جو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں چھپ چکا ہے۔ہمیں آپ تحریر فرماتے ہیں :- میاں صاحب السلام علیکم ورحمتہ ال وہ رکا نہ آپ کے سوالات پر خاکسار کو تجب