کلمۃ الفصل — Page 61
جلد ۱۴ مرید ہی ہیں۔مولوی صاحب ! ذرا یہ چھوٹا مسئلہ بتائیے کہ جو مرزا صاحب کو نہ مانے اسکے متعلق آپ کیا کہتے ہیں نے کہا کہ ایک طرف موسی علیہ السلام دوسری طرف حضرت محمدصلی اله علیم ہیں۔پھر ایک طرف موسوی مسیح ہے دوسری طرف میری سیح۔موسی علیہ اسلام کے منکروں کو کیا سمجھنا چاہئیے آپ جانتے ہی ہیں پھر حضر محمدصلی اللہ علہ وسلم کے منہ کو کیا بجھا چاہیئے یہ بھی آپ کو معلوم ہے۔اسی طرح موسوی مسیح کے مندر کو بھی جو کچھ سمجھتے ہیں۔اس کے مقابہ میںمحمد می صحیح کے منہ کو کیا مجھیں۔یہ آپ خود ہی تجویز فرما سکتے ہیں۔یہ شنکر اپنے لڑکے سے کہنے لگا لا جلدی سے کھانا، ان سے بحث کرنا کوئی معمولی بات نہیں (فرموده ۱۵ مئی اندام در سبد مبارک پھر ایک اور موقعہ پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ دو اگر مرزا صاحب کو خدا کا مامور د مرسل مانے سے تم ہم کو کافر بناتے ہو تو تم خود سوچ لو کہ ایک مامور مرسل کے انکار سے تم کی بن سکتے ہوں فرتون کانٹے کا نام ہے ماننے والے تو مومن ہی کہلاتے ہیں۔دیکھو الحکم نمبر ۲ ۲۶ جلد مورخه ۲۱ و ۲۸ - جولائی شاع) پھر لاہور احمد یہ بلڈ نگس کے مسجد نما ہال میں کھڑے ہو کر حضرت خلیفہ اول نے جو تقریر فرمائی وہ مستند کفرہ اسلام کو بالکل صاف کر دیتی ہے۔آپ نے فرمایا۔" دوسرا مسئلہ جس پر اختلاف ہوتا ہے وہ اکفار کا مسلہ ہے۔اپنے مخالفوں کو کیا سمجھنا چاہیئے ؟ اس مسئلہ کے متعلق تم آپس میں جھگڑتے ہو۔ہمارے بادشاہ ہمارے آقا مرزا صاحب نے اسکو کھو کہ بیان کر دیا ہو گر تم پھر بھی جھگرتے ہو۔انبیائی کی ضرورت اور ان پر ایمان کے متعلق قرآن مجید نے کھولکر بیان کیا ہے۔پس یہ کیسی صاف راہ ہے۔ہر نبی کے زمانہ میں لوگوں کے کفر اور ایمان کے اصول کلام الہی میں موجود ہیں جب کوئی نہی آیا اسکے مانے اور زمانے والوں کے متعلق کیا وقت باقی رہ جاتی ہے ؟ ایچاپیچی کرنی اور بات ہے ورنہ اللہ تعالٰی نے کفر ایمان اور شرک کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پہلے نہی آتے رہے انکے وقت میں دل ہی تو میں تمھیں۔ماننے والے اور نہ مانخی حوالے کیا ان کے متعلق کوئی شبہ تمھیں پیدا ہوا ؟ اور کوئی سوال اٹھا کہ ماننے والوں کو کیا کہیں جو اب تم کہتے ہو کہ مرزا صاحب کے زمانے والوں کو کیا کہیں۔۔۔۔۔۔غرض کفروہ ایمان کے صول تم کو بتا دیے گئے ہیں حضرت صاحب خدا کے مرسل میں اگروہ نبی کا لفظ اپنی نعت ہو تے