کلمۃ الفصل — Page 60
ریویو آن رو نمیجنز ۱۴۹ پھر ایک دفعہ ایک احمدی کا خط پیش ہوا کہ مجھ آپکے میموریل جعہ کے ساتھ اتفاق ہے۔میں اپنے خیال کے مطابق کسی مسیح کی آمد کا منتظر ہیں ہوں نہ کسی کی ضرورت ہے اور نہ خلیفہ المسیح کی ضرورت ہے ابت نیکو کا خدا پرست رہبروں کی ہر زمانہ میں ضرورت ہے۔اور مرزا صاحب مرحوم اور جناب کی مثال جتنے بزرگ دنیا میں پیدا ہوں کم ہیں۔فرمایا۔یہ محلہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فقرات بولنے والے لوگ کیا مطلب اپنے الفاظ کا رکھتے ہیں۔مرزا صاحب کا دعوی تھا کہ میں میسیج ہوں۔صدی ہوں خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔وہ برابر اپنے العلام شنا تے رہے۔اب یا تو ایسا شخص اپنے دعوئی میں سچا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے مسیح مان لیا جاوے اور یا وہ خدا پر افترا کرتا ہے اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مفتری سے بڑھکر کوئی ظالم نہیں۔راہ ہیں تو دوری ہیں۔معلوم نہیں کہ یہ تیسری راہ کہاں سے لوگوں نے فرض کرتی ہے یا دیکھ بد تبر یا وہ ہم جلد مورخه ۵ اکتوبر شده ) پھر بدر نمبر ۲ جلد ۱۲ مورخہ 11 جولائی ۱۹۱۳ء میں چھپ چکا ہے کہ ایک شخص نے حضرت خلیفہ المسیح سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں ؟ فرمایا اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی ) یا پھر ایک دفعہ اور ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں فرمایا میرے نزدیک مسلمان وہ ہے جواللہ تعالیٰ کے حکموں کو مانے ایک شخص اگر مسیح اور حمدی ہو گا دعوی کرتا ہے تو مدعی دو حال سے خالی نہیں یاتو وہ جھوٹا ہے تب تو اس سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں۔اور اگر وہ سچا ہے تو اسکو نہ مانے والا خدا تعالیٰ سے جنگ کرتا ہے کہ دیکھو بہر نمبر اعلام ۱۹۱۳ مورخه ۲۳- اکتوبر شد ۶ ) پر کلام الامام مندرجه الحکم تیر ۲۴ جلد ۱۳ مورخہ ۲۸ جون شام میں حضرت مولانیات کے الفاظ میں یوں لکھا ہے کہ دو ایک غیر احمدی مولوی نے ہماری دعوت کی یہ غلام محمد امرتسری بھی ہمالہ سے ساتھ تھے وہ میزبان خودتو پنکھا جھلنے کھڑا ہوگیا اور دوسرے مولوی کو پہلے ہی ہم سے بحث کرنے کولا کہ ہمارے پاس بٹھا دیا تھا۔بہت سی باتیں زمی ومحبت کی کرتا رہا کہ ہم تو عین کو مرا ہوا مانتے ہیں اور مرزا صاحب کو بڑا راستباز جانتے ہیں اور بھی سب باتوں کو مانتے ہیں گویا آپکے