کلمۃ الفصل — Page 58
نمبر ۳ لولو اف الجز ۱۴۴۷ بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کی کہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بہشت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں میں میں بنوں حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقوئی اور اکمل اور اشتہ ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو۔باب اس باب میں حضرت خلیفہ اول کے فتاولی دربارہ مسئلہ کفر و اسلام درج کیئے جائیں گے تا اس بات کا پتہ لگے کہ مہدی علیہ السلام پر ایمان لانے کے دعوئی میں کون سچا ہے اور کس کا دعوئی نفاق اور مصلحت وقت پر مبنی ہے۔سود واضح ہو کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے سوال پیش ہوا کہ جوغیر احمدی مسلمان ہم ہے۔پوچھے کہ ہماری بابت تمھارا کیا خیال ہے اسے کیا جواب دیا جائے۔فرمایا " لا اله الا اللہ کے مانے کے نیچے خدا کے سارے ماموروں ے مانے کا حکم آجاتا ہے۔اللہ کو مانے کا یہی حکم ہے کہ اسکے سارے حکموں کو مانا جاوے۔اب سارے ماموروں کو مانا لا اله الا اللہ کے معنوں میں داخل ہے حضرت آدم - حضرت ابرا ہیم حضرت موسی۔حضرت مسیح ، ان سب کا ماننا اسی لا اله الا اللہ کے ماتحت ہے حالانکہ انکا ذکر اس کلمہ میں نہیں ہے۔قرآن مجید کا مانا سیدنا حضرت محمد خاتم النبین پر ایمان لانا۔قیامت کا ماننا سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعوی میں جھوٹے تھے یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں خدا تعالٰی فرماتا ہے۔ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بالحق لما جاءه۔دنيا میں سے بڑھکر ظالم دو ہی ہیں ایک وہ جو اللہ پر افترا کرے۔دوم جو حق کی تکذیب کرے پس یہ کہنا کہ مرزا نیک ہے اور دعاوی میں جھوٹا گو یا نور و ظلمت کو جمع کرنا ہو جو نا ممکن ہے کہ مضمون چھپ چکا ہے دیکھو بہ نمبر ۱۶ جلد ۱۰ مورخه ۹ ماین اندامی پھر ایک دفعہ اور نہ ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بعض غیر احمدی