کلمۃ الفصل — Page 53
۱۴۲ كا يفصل جل ؟ اداد ئی۔قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله انت منی بمنزلة توحيدي و تفريدى - انت منی بمنزلة عرشي انت منی بمنزلة ولدى - يا قمر يا شمس انت منى و انا منك انت مرادی و معى سترك سترى بشرى لك يا احمدى - كمثلك در لا يضاع شانك عجيب و اجرك قريب انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق انت وجيه في حضر تي اخترتك لنفسی۔ابن الہامات سے اُس شخص کی شان کا پتہ لگتا ہے جس کے قلب پر ان کا نہ دل ہوا۔کیا ایسے شخص کا انکار کرنے والا مومن کہلا سکتا ہے۔اگر ایسے شخص کے انکار سے بھی ایمان قائم رہ جادے تو دنیا سے امان اٹھ جائے پھر حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے دینا اتنا سمعنا منادیا گنادی الایمان و داعيا الى الله وسراجاً منيرا۔اس میں اللہ تعالٰی نے مسیح موعود پرایمان لانیوالوں کا قول نقل کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ مسیح موعود ہی وہ شخص ہے جولوگوں کو ایمان کی طرف بلاتا ہوں پس وہ شخص جو مسیح موعود کی طرف نہیں آتا وہ ایمان سے محروم ہے۔پھر حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۸۰ پر حضرت صاحب کا یہ الہام درج ہے کہ قل جاء کم نور من الله فلا تكفروا ان کنتم مؤمنین یعنی تو لوگوں کو کہدے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارے پاس نور آیا ہے اب اگر تم اپنے دعوئی ایمان میں پچھتے ہو تو کفر ہ کرو۔اس الہام سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مومن ہونے کا معیار مسیح موعود پر ایمان لانے کو رکھا ہے جو سیح موعود کا انکار کرتا ہے اس کا پہلا ایمان بھی قائیم نہیں۔پھر اسی صفحہ پر ایک الہام درج ہے جو یہ ہے لعلك باخع نفسات الا يكونوا مومنین یعنی کیا تو اس لیئے اپنی جان کو ہلاک کر دیگا کہ وہ مومن کیوں نہیں بنتے۔اس الہام سے بھی صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ انسان مومن نہیں بن سکتا جب تک مسیح موعود کو نہ مانے۔اور پھر صفح ۸۲ پر حضرت مناسب کا یہ الہام درج ہے کو جعلنا جھنم للكافرين حصيرا۔اور حضرت مسیح موعود کا یہ الہام تو عالیہا نے سنا ہوگا کہ یا عيسى اني متوفيك ورافعك الي و جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة