کلمۃ الفصل — Page 48
نمبر ۳ ریویو ان المجزر نیست اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا اور جسپر خدا کے نزدیک اتمام محبت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو کو شریعیت نے رجکی بنا ظاہر پر ہے ، اس کا نام سبھی کا فر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اسکو با تباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں کہ پھر بھی مہندا کے نزدیک موجب آیت کا مکلف الله نفسا إلا وسعها قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔ایجاہ میں پھر اس خط کے ایک حصہ کو نقل کر دیتا ہوں جو حضرت مسیح موعود م نے عبد الحکیم خان مرتد کو لکھا۔عبد الحکیم خان کے خطا کا مضمون یہ تھا کہ آپ تو خادم اسلام ہیں کہ خود وجود اسلام پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں کروڑ مسلمان جنہوں نے آپ کو قبول نہیں کیا سب کا فر ہو گئے تو اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا کہ بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں بتلا ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے بہتر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سر خارج کرتا ہوں کہ پھر حضرت مسیح موعود اپنی کتاب تجلیات کے مصفرہ و پر تحریر راتے ہیں۔و یہ مکالمہ المیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایکدم کے لیے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات کا جن میں آپ کا دعوی مسیحیت بھی ہے اگر کوئی منکر ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے ہاں اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا کبھی حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفوں کو خود کا فر کہکہ پکارا بھی ہے یا نہیں یا ہمیشہ استفسار پر ہی اس فتوی کا اظہار کیا ہے سو اول تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہو کہ اس نام سے اپنے اپنے مخالفوں کو پکارا بھی ہو کیونکہ جب آپ کا اس کے متعلق صاف فتونی موجود ہے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔دوسرے یہ کہ آپنے اس نام سے اپنے مخالف کو