کلمۃ الفصل — Page 47
یا كلمة الفصل نے اس بات کو مان لیا ہے کہ آپ کے انکار سے انسان کا فر ہو جاتا ہے۔ورنہ جواب کا پہلو ی اختیار کرنا چاہیئے تھا کہ میں تو اپنے مفکروں کو کافر نہیں کہتا یہ تم مجھ پر الزام لگاتے ہو مگر حضرت مسیح موعود نے ایسا نہیں کیا جس سے ظاہر ہے کہ آپ اپنے منکروں کو کا ز جانتی تھے۔پھر حضرت مسیح موعود حقیقة الوحی صفحہ ۱۷۸ پر لکھتے ہیں کہ : دو میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لیے آسمان سے نشان ظاہر کیئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مواخذہ ہو گا کیونکہ خدا کے استادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اسپر کوئی گرفت نہ ہو۔اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جسکی تائید کے لیئے میں بھیجا گیا معنی حضرت بھی مصطفی صلی اللہ علیہ سلم جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نا فرمان ہو جس سے میرے آنے کی پیشگوئی کی " پھر ذرا آگے چل کہ تحریرفرماتے ہیں کہ :۔دیر ہم اس قدر تھی کر سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اتمام محبت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکہ ٹھر چکا ہے وہ مواخذہ کے لایق ہو گا۔ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لیئے ہم منکر کو مومن نہیں سکتے اور نہ یہ کر سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہو اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کا فرکا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے داول ، ایک کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ سلام خدا کار سول نہیں مانتا۔( دوم ) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا، در سکو با وجود اتمام محبت کے جھوٹا جانتا ہے جسکے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے میں اسلیئے کہ وہ خدا اور رسول کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جاوے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص با وجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا کے نزدیک اول قسم کفر یاد دوسری قسم کی