کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 95

کلمۃ الفصل — Page 45

۱۳۴ كل يفصل جان ہو گیا اور جومیرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا " علاوہ اس کے حضرت مسیح موعود نے کئی جگہ لکھا ہے کہ اس امت کا صحیح پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھکہ ہے مطلب یہ کہ بقدر شانیں مسیح ناصری میں پائی جاتی ہیں ان تمام میں مسیح محمدی اس سے افضل ہے اب ظاہر ہے کہ منجملہ اور شانوں کے مسیح ناصری کو اللہ تعالیٰ نے یہ شان اور رتبہ بھی دیا تھا کہ اس کا انکار کر نیوالا مغضوب علیہ اور کافر ہو جاتا تھا لیکن چونکہ سیم محمدی صبح ناصری سے تمام شان میں بڑھکہ ہے اسلئے اسکو اس خاص شان میں بھی سکا ینے ذکر کیا ہے بڑھکر مانا پڑیگا اور یا اس بات کا اعتراف کرنا ہو گا کہ مسیح ناصری کا منکر کافر نہیں۔فتدبر وا پھر جب حضرت مسیح موعود سے کسی غیر احمدی نے یہ سوال کیا کہ :۔" حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کا فربنجا ئیں صرف آپکے نہ مانے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا لیکن عبد الحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر اک شخص جسکو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان 1 پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں۔کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے گا اس کا حضرت مسیح موعود نے یہ جواب دیا کہ دو یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہو گا نہ تھا فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کا فروں سے بڑھکر کا فر ہے جیسا کہ فرماتا ہے ومن فیلم همن افترى على الله كذبا او كذب بایا ته یعنی بڑے کا فرد ہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا پس جب بیتنے ایک مذہب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے اس صورت میں میں صرفت کا فر بلکہ بڑا کافر ہوا اورگرمیں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑیگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔علاوہ اسکو