کلمۃ الفصل — Page 41
١٣٠ جدا در شخص بڑے ہی بد بخت میں اور انس و جن میں سے ان سا کوئی بھی بد طالع نہیں۔ایک جس نے خاتم الانبیائ کونہ مانا۔دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء پر ایمان نہ لایا کہ اس حوالے سے یہ پتہ لگتا ہے کہ مسیح موعود کا منکر شقاوت میں ہی کریم کے منکروں کے سوا باقی تمام رسولوں کے منکروں سے آگے نکل گیا ہے۔پھر کتاب ضرورة الامام صفحہ ۲۴ میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ : جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق ، اللہ کے لیے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات انکو دئیے گئے وہ گو دلی ہوں یا ابدال ہوں امام الز مان نہیں کہلا سکتے۔اب بالآخر یہ سوال باقی کا کو اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جسکی پیر دی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور مہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے سو میں اسوقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں “ اس طرح کشتی نوح صفحہ 4ہ میں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ :- دو مبارک وہ جس نے مجھہ کو پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں ایسے آخرمی راہ ہوں۔اور اسکے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریخی ہے کہ مجھے تعجب پر تعجب آتا ہے کہ بعض لوگ غیروں کو خوش کرنے کے لیے اپنے آقا حضرت مسیح موعود کی شان کو گھٹانا چاہتے حالانکہ مسیح موعود نے اپنی نسبت لکھا ہے کہ۔دو میں اپنے رہے اس مقام پر نازل ہوا ہوئی جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا اور میرا بھی اکثر اہل اللہ سے پوشیدہ اور دور تر ہے قطع نظر اس سے کہ عام لوگوں کو اس سے کچھ اطلاع ہو سکے۔۔۔۔۔پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کر اور نہ کسی است کو میرے ساتھ " ( دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ ۱ و ۱۹ ) انجن یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ خطبہ الہامیہ وہ خطہ ہے جو خدا کی طرف سے ایک معجزہ کے رنگ پر مسیح موعود کو عطا ہوگا جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے پس اس کتاب کو عام کتابوں کی طرح سمجھنا چاہیئے۔کیونکہ اس کا ہر ایک فقرہ الہامی شان رکھتا ہے۔پھر اسی کتاب ہے صلحہ ۱۷ پر حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں:- در جو شخص مجھے میں اور مصطفے میں