کلمۃ الفصل — Page 4
نمبر ۳ ريو يو أن المجنز ۹۳ کرنے والے نے کہ دیا کہ نعوذ باللہ یہ مجنون ہے اسے قتل کر دو قید خانے میں ڈالد و ملک سخر نکال دو لیکن جہاں ایسا گروہ تھا وہاں وہ لوگ بھی تو پیدا ہو گئے جن کی نسبت خود ذات باری تعالے سے فتوی آگیا کہ رضی الله عنهم ورضواحتہ اور جنہوں نے اسلام کی خاطر بے شمار مصائب کو برداشت کیا اپنے گھروں سے نکالے گئے بیوی بچوں سے جدا کیئے گئے رشتہ داروں عزیزوں اور دوستوں سے یک قلم الگ ہونا پڑا اخدا کے راستہ میں اپنے خون کو پانی کی طرح بہایا مگر جس در پر سر رکھا تھا اسے نہ چھوڑا اور ہرگز نہ چھوڑا لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کیا تھا ایک بیٹری تھی جس نے اُن کی رگ رگ میں برقی طاقت بھر دی اور ان سے وہ کام کروانے جو بصورت دیگر احکام مربع تھے کیا کوئی قیاف دان اس بات کا پہلے سے ہی اندازہ کر سکتا تھا کہ عرب کے ریگستان سے وہ چشمہ جاری ہونے والا ہے جوساری دنیا کو اپنے اندر لے لے گا؟ اور کیا کسی نجومی کا علم اسے یہ خبر کر سکتا تھا کہ کلہ کے قریش ایک دن سارے جہان کے استاد نہیں گے اور دنیا کے بڑے حصہ پر اسکی حکومت پھیل جائے گی جو مر کے لوگ پرانی رسوم کے سخت پابند تھے اور عر کے قبیلوں میں باہم اتقد کیش کیش تھی کہ کسی کو ہم بھی نہیں گزر سکتا تھا کہ یہ لوگ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں اور ہمیشہ آپس میں دست، بگریباں رہتے ہیں ایک دن اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو کر تمام دنیا پر ایک سیل کی طرح بچھا جائیں گے غرض ہر مامور کی بہشت کے وقت دو گروہوں کا پیدا ہو جانا سنت اللہ میں داخل ہے کیونکہ ماموں کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ طیب کو خبیث سے جدا کرے اور شقی اور سعید کے درمیان تمیز پیدا کر دے۔یہ تمیز ماننے والے اور نہ ماننے والے فرقوں کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور ان ہر دو مخالف گروہوں میں ہمیشہ اسقدر نمایاں اختلاف ہوتا ہے کہ دیکھنے والا کبھی کسی کے متعلق شک میں نہیں پڑ سکتا کہ وہ کسی گروہ میں سے ہے اور اس نمایاں فرق کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہرد و مخالف گروہوں کا امتیازی نشان دل کی کسی کیفیت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک نبی کی بعثت کے وقت اُس خاص نبی کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ہدایت خلق اللہ کے لیے مامور مان لینے یا استلا کر دینے پر سا را مدار ہوتا ہے۔وہ جو مان لیتے ہیں حزب اللہ کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور وہ جو انکار کردیتے میں دو حزب الشیطان میں داخل ہوتے ہیں۔عربی زبان میں چونکہ ان سینے