کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 95

کلمۃ الفصل — Page 39

۱۲۸ كالفصل جلد کی یہ تحریر بھی بہت سارے جھگڑوں کے لیے فیصلہ کن ہے کیونکہ اس سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ اولی جو حضرت مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہوا وہ صحابہ کرام کے زمرہ میں داخل ہو گیا۔دوم یہ کہ سلمانوں کے جو تہتر فرقے ہیں ان میں سے سوائے احمدی جنات کے باقی سب عار اسلام ہیں۔شوم یکہ تمام غیر احمدی مسلمان اسلام کے پاک چشم کے بدنا نشد ہیں۔چہارم یہ کہ وہ اک فرقوں میں داخل ہیں پنجم یہکہ وہ باوجود مسلمان کہلانے کے اسلام کی حقیقت کے منافی ہیں۔چھٹے یہ کہ وہ صفحہ زمین سے نابود ہو جائیں گے۔پس یہ بالکل یقینی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی غیر احمدی لوگوں کی سامان کہا یا لکھا ہے وہاں صرف عرف عام کی وجہ سے ایسا کیا ہے ورنہ جو رائے حضرت صاحب نے اپنے منکروں کے متعلق حسب حکم الہی قائم کی تھی وہ مذکورہ بالاحوالوں سے صاف ظاہر ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود کے منکروں کو حقیقی مسلمان سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے انکار سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا وہ خدا را غور کریں اور دیکھیں کہ کہیں وہ نام میں ایسے لوگوں کوتو داخل نہیں کر ہے جو ار اسلام اور بدنام کننده اس پاکتی کے میں اور نا پاک فرقوں میں داخل ہو کر اسلام کی حقیقت کے منافی ہوچکے ہیں۔اور پھر ہیں تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ وہ اسلام کیا اسلام ہے جو انسان کو نجات نہیں دلا سکتا کیونکہ ہم حضرت مسیح موعود کے صریح الفاظ میں لکھا ہوا پانتے ہیں کہ میرے مانے کے بغیر نجات نہیں جیسا کہ آپ اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۲ پر تحریر فرماتے ہیں کہ :۔ایسا ہی آیت و اتخذ و امن مقام ابراهیم مصلے اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخری زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں سے وہ فرقہ نجات پائیگا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگی پھر براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۸۲ میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔" انہی دنوں میں سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جاونگی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لیے ایک کرنا بجائیگا اور اس کرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھینچا آئیگا جو ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لیے پیدا کیئے گئے ہیں ؟ ایسا ہی اشتہا •