کلمۃ الفصل — Page 27
114 الفصل جلد قرآن کریم کاتارا جاوے تا قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ پورا ہو اور یہ نبی کوئی اور نہیں ہے بلکہ خود محمد رسول اللہ صلیم ہے جو بروزی رنگ پر دنیا میں آیا کیونکہ غیر کے آنے سے مہر نبوت ٹونتی ہے۔دوسرے یہ کہ چونکہ خاتم النبین کی بعثت سے پہلے نبوت مستقل کا دروازہ کھلا تھا اس لیئے موسیٰ کی امت میں بہت نبی آئے کیونکہ ان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ جب تک وہ نبوت کے تمام کمالات کو حاصل نہ کرلیں انکو نبوت نہ ملے بلکہ ہر ایک زمانہ کی ضروریات کے مطابق نبیوں میں نہ کیلئے کمالات رکھے جاتے تھے لیکن خاتم النبین کی بہشت سے نبوت مستقلہ کا دروازہ ہمیشہ کے بند ہو گیا اور خلقی نبوت کا دروازہ کھولا گیا جسکے یہ معنی ہیں ہم کو بد بوت صرف اسی کو مل سکتی ہے۔جو آپکی اتباع میں اسقدر آگے نکل گیا ہو کہ اسکا اپنا وجود درمیان میں نہ رہے کیونکہ ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی کامل تصویر ہو اب اگر آپ کے بعد بھی بہت سے نبی آجا۔تے تو پھر آپ کی شان لوگوں کی نظروں سے گر جاتی کیونکہ آپکے بعد بہت سے نبیوں کے ہونے کے یعنی ہیں کہ نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلعم کا درجہ اتنا معمولی ہے کہ بہت سے لوگ محمد رسول اللہ بن سکتے ہیں کیونکہ جو کوئی بھی ظلی نبی ہوگا وہ بوجہ نبی کریم صلعم کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے محمد رسول ہی کہلائے گا۔پس اس لیے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کر سکے۔بیشک اس امت میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو علماء امتی کا بنیاء بنی اسرائیل کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پہ تھے لیکن ان میں سوائے مسیح موعود کے کسی نے بھی بھی کریم کی اتباع کاتا نمونہ نہیں دکھایا کہ نبی کریم کا کامل ظل کہلا سکے اس لیئے نبی کہلانے کے لیے صرف مسیح موجود مخصوص کیا گیا۔ہاں اگر نبوت مستقلہ کا دروازہ اس امت میں گھلا ہوتا تو یقیناً اس امت کے نبیوں کی تعداد انبیائے بنی اسرائیل سے بہت بڑھ جاتی پس بے شک نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے موضوعی سلسله محمدی سلسلہ پر ایک گونہ فوقیت رکھتا ہے جگہ یہ فوقیت اسی قسم کی ہر جیسی بنی اسحاق کو بنی اسماعیل پر حاصل ہے۔لا ریب اسرائیل عورتوں نے کئی ایسے بیٹے جنے جو نبی کہلائے گار خدا کی قسم آمنہ کے بطن سے