کلمۃ الفصل — Page 25
کا لفصل جلد ۱۳ کہ اسے سوقت تک نبوت نہ ملے جب تک وہ محمد صلم کی خوبیوں کو اپنے اندر جمع کر لے کیونکمان ب لوگوں کا کام خصوصیات زمانی اور مکانی کی وجہ سے ایک تنگ دائرہ میں محدود تھا لیکن مسیح موجود چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے ہرگز نبوت کا خلعت نہیں پہنایا جب تک اس نے نبی کریم کی اتباع میں چلکہ آپکے تمام کالات کو حاصل کر لیا پس مسیح موعود کی نطقی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں بلکہخدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے جس تک انبیائے نبی اسرائیل کی پہنچ نہیں۔مبارک وہ جو اس نکتہ کو مجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپکو بچائے۔غور کا مقام ہے کہ ہم موسیٰ کو تو صرف اس لیئے نبی کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اسکو ہی کہا ہے۔عیسی کو نبی اللہ صرف اس لیئے جائیں کہ قرآن کریم میں اسکی نسبت نبی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر تب مسیح موعود کا سوال ہونے تو ہم اس اصول کو چھوڑ کر لفظی تاویلات میں پڑ جائیں۔موسی اور غیبی کی نبوت کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں سوائے اسکے کہ اللہ کے کلام نے انکو بطور نبی کے پیش کیا ہے پس جب اُسی فدا کے کلام میں مسیح موعود کو کئی دفعہ نہی کے نام سے پکارا گیا ہے تو ہم کون ہیں کہ اسکی نبوت کا انکار کریں۔کیا جس طرح آج سر تیر مسوسال پہلے خدا صادق القول تھا اور اس کا کلام سچا اور غلطی سے پاک تھا اس زمانہ میں وہ نعوذ باللہ صادق القول نہیں ہے اور اس کا کلام اس قابل نہیں رہا کہ انسان اسکو سنتا جان سکے اور اسپر ایمان لے آئے۔نعوذ باللہ من ذلک۔غرضیکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا اور و ہی نہی تھا جس کو نبی کریم صلعم نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نہیں تھا جسکو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں یا ایھا النبی کے الفاظ سے مخاطب کیا ہاں مسیح موعود صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نہیں اور ایک پہلو سے امتی تانبی کریم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو۔اسجد یک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہی کر یم کی قوت قدسی کا اچھا ایمان ہے کے موسی کی شریعت کی خدمت کے لیے تو سینکڑوں نہیں آئے مگر امت محمدیہ میں ایسا شخص