کلمۃ الفصل — Page 19
كلمة الفصل جلد ۱۴ کا دعوئی ہے مومن نہیں کہلا سکتا جب تک اسکی حالت اس آیت کی مصداق نہ ہو کہ لا نفرق بین احد من مسلہ اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ہم کسی شخص کو مومن نہ کہیں جب تک وہ اللہ تعالٰی کے تمام فرستادوں پر ایمان لے آدے کیونکہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے بعض رسولوں کا انکار کر کے پھر بھی مومن کہلا سکتا ہے تو اسکے یعنی ہونگے کہ مذہب بھی ایک کھیل ہے انسان جو دل میں آئے کرے میں رسول کو چاہے ان لے جس کا چاہے انکار کر دے اور پھر مومن کا مومن ! غرض یہ بات عند القرآن اور عند العقل پایہ ثبوت تک پہنچی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں کو ماننے کے بغیر ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔ورنہ یہ ماننا پڑ گیا کہ بعض رسولوں کی معیشت نعوذ باشند لغو ہوتی ہے۔اجگہ یہ بھی یادر ہے کہ کفر و قسم کا ہوتا ہے ایک ظاہری کفر اور ایک باطنی کفر۔ظاہری کف تو یہ ہے کہ انسان کسی نبی کا گھلے طور پر انکار کر دے اور اسکو مامور بعد ایت خلق اللہ نہ مانے جس طرح پر کہ یہود نے مسیح ناصری کا انکار کیا یا جس طرح نصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کی طرف سے نہ مانا اور باطنی کفر یہ ہے کہ ظاہر طور پر تو کسی نبی پر ایماری لانے کا اقرار کیا جائے اور اسکو اللہ کی طرف سے مامور بجھ جاوے لیکن حقیقت میں انسان اس نبی کی تعلیم سر بہت دُور ہو اور اس کی پیشگوئیوں پر پورا ایمان لائے اور صرف اسمی طور پر اسکی طرف منسوب کیا جاؤ اور جیسا کہ مسیح ناصری کے زمانہ میں یہود کا حال تھا۔وہ گو ظاہر طور پر تورات کے حامل تھے موسٹی کی اُمت میں اپنے آپ کو شمار کرتے تھے لیکن مسیح کی آمد نے انکاس را راز طشت از بام کر دیا اور یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوگئی کہ حقیقت میں یہود موسی کی تعلیم سے بہت دور جاپڑے تھے اور انہوں نے تورات کو پس پشت ڈالدیا تھا اور آپکا موسی کی اُمت میں ہو سکا دعوی صرف زبانی دعوی تھا جو آزمانے پر غلط نکلا۔میچ ناصری بود کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امتحان کی شکل میں نازل ہوا تا خبیث اور طیب میں تمیز پیدا ہو جاوے اور تا اس بات کا پتہ لگے کہ یہود میں سے کون اپنے دعوے میں سچا اور کون جھوٹا ہے پس یہود نے مسیح کے انکار سے اپنے اوپر دو کفر لیے ایک مشیح کا ظاہری کفر اور ایک موسی اور موسیٰ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائی کا بانی کریمی حال نبی کریم مسلم کا نہ ان پانے والے