کلمۃ الفصل — Page 15
۱۰۴ كلمة الفصل جلدم سروکار نہیں کیا کوئی احمد کا نام لیوا اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ اگر اس زمانہ کا بڑا مفر تیرہ سو سال پہلے عرب میں پیدا کیا جاتا تو ابو جہل سے جہالت میں کم رہتا اور کیا اگر اس زمانہ کا مرند پٹیالوی رسول عربی کے وقت کو پاتا تو مسیلمہ کذاب کی طرح آپ کے غداری نہ کرتا ہے دوستو! انہاں تم نے احمد کو محمد کا کامل بروزمانا ہے وہان احمد کے سنکہ ان کو محمد کے منکرین کا کامل بروز مانتے ہوئے تمھیں کو نسی بات روکتی ہے۔اور پھر اس پر بھی تو غور کرو کہ اللہ تعالٰی نے نبی تم کی دو بعثتوں کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے جیسا کہ آتا ہے ھو الذی بعث فی الامیین رسولاً يتلوا عليهم ايته ويذكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين۔وأخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحکیم۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے صاف خدایا ہے کہ جس طرح نبی کریم کو امتیوں یعنی لکھے والوں میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اسی طرح ایک اور قوم میں بھی آپ کو مبعوث کیا جائے گا جو ابھی تک دنیا میں پیدا نہیں کی گئی۔لیکن چونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص جب فوت ہو جاوے تو اسے پھر دنیا میں لا یا تبادے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے متعلق قرآن کریم میں صاف فرما دیا ہے که انه کار جعون پس یہ وعدہ اس صورت میں پور ہو سکتا ہے کہ جب نبی کریم کی بعثت ثانی کے لیے ایک ایسے شخص کو چنا جادے جس نے آپ کے کمالات نبوت سے پورا حصہ لیا ہو اور جو حسن اور احسان اور ہدایت خلق اللہ میں آپ کا مشابہ ہو اور جو آپکی اتباع میں اسقدر آگے نکل گیا ہو کہ بس آپ کی ایک زندہ تصویر بنجا دے تو بلا ریب ایسے شخص کا دنیا میں آنا خود نبی کریم کا دنیا میں آتا ہے اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی حتی کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجود وجود دیکر خطبہ امامیہ صفحہ ۱۷) اور حدیث میں نہیں آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر دفن وہ میری میں دفن کیا جاویگا جس سے بھی مراد کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئیگا تا اشاعت اسلام